لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 470
470 مسٹر پریذیڈنٹ بہنو اور بھائیو! میں سب سے پہلے خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے اس کانفرنس کے بانیوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا کیا کہ لوگ اس طریق پر مذہب کے سوال پر غور کریں اور مختلف مذاہب سے متعلق تقریریں سنگر یہ دیکھیں کہ کس مذہب کو قبول کرنا چاہئے۔اس کے بعد میں اپنے مُرید چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بارایٹ لاء سے کہتا ہوں۔کہ میرا مضمون سُنا ئیں۔میں ایسے طور پر اپنی زبان میں بھی پر چہ پڑھنے کا عادی نہیں ہوں کیونکہ میں ہمیشہ زبانی تقریریں کرتا ہوں اور چھ چھ گھنٹے تک بولتا ہوں۔مذہب کا معاملہ اسی دنیا تک ختم نہیں ہو جاتا بلکہ مرنے کے بعد دوسرے جہان تک چلتا ہے اور انسان کی دائمی راحت مذہب سے وابستہ ہے اس لئے آپ اس پر غور کریں اور سوچیں اور مجھے امید ہے کہ آپ توجہ سے سنیں گے،۲۹ حضور کے ان ارشادات کے بعد حضرت چوہدری صاحب کھڑے ہوئے اور حضور کا مضمون سُنانا شروع کیا اور ایسی پُر شوکت مؤثر اور بلند آواز سے مسلسل ایک گھنٹہ تک بولتے چلے گئے کہ حاضرین عش عش کر اُٹھے اور بے اختیار تحسین و آفرین کے نعرے بلند کرنے لگے۔۳۰ حضرت مولوی نعمت اللہ خاں صاحب کی شہادت اور حضرت چوہدری صاحب کا اظہار اخلاص :۔حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب ایک گاؤں خوجہ تحصیل رخہ ضلع پنج شیر کے باشندہ تھے۔حصول تعلیم کے لئے قادیان تشریف لائے۔مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔1919ء میں جبکہ آپ ابھی طالب علم ہی تھے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کابل کے احمدیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپ کو افغانستان جانے کا حکم دیا۔وہاں چند سال تک آپ نے احمدیوں کی تعلیم و تر بیت کی اور غیر احمدیوں تک پیغام حق پہنچایا۔مگر ۳۱۔اگست ۱۹۲۴ء کو جب کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ابھی ولایت ہی میں تھے کہ حضرت مولوی صاحب کو حکومت افغانستان کے ظالمانہ فیصلہ کے ما تحت سنگسار کر دیا گیا۔حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو ۴۔ستمبر ۱۹۲۴ء کو حضور نے جماعت احمدیہ کے نام ایک پیغام میں فرمایا: ” برادران ! غم کے اس وقت میں ہمیں اپنے فرض کو نہیں بھلانا چاہیے جو ہمارے اس