لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 472
472 سید نادرشاہ صاحب نے تجارتی اغراض کے ماتحت یہ احاطہ خریدا تھا مگر جب انہیں پتہ لگا کہ جماعت کو یہ مسجد کے لئے درکار ہے تو انہوں نے اسی قیمت پر یہ احاطہ جماعت کو دے دیا۔یہ احاطہ غالباً 1919 ء یا ۱۹۲۰ء میں خریدا گیا تھا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا بیان ہے کہ جب مسجد کی تعمیر کا سوال پیدا ہوا تو حضرت میاں چراغ دین صاحب اور ان کی فیملی کی رائے تھی کہ مسجد ان کے نزدیک ہی بنائی جائے مگر جماعت کے دیگر نو جوان یہ چاہتے تھے کہ باہر کشادہ زمین لے کر مسجد بنائی جائے چونکہ جماعت کی اکثریت کی یہی رائے تھی اس لئے حضرت میاں صاحب نے جماعت کے نظام کا احترام کرتے ہوئے بشاشت سے یہ فیصلہ منظور کر لیا مگر باوجود کوشش کے با ہر جگہ نہ مل سکی اور مجبور موجودہ جگہ پر ہی مسجد بنانا پڑی۔اس مسجد کی تعمیر کے لئے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمدیہ لا ہور نے ایک کمیٹی بنائی جس کے پریذیڈنٹ محترم با بو عبد الحمید صاحب ریلوے آڈیٹرا اور سیکرٹری محترم سید دلاور شاہ صاحب بخاری تھے۔مسجد کا نقشہ محترم میاں محمد صاحب * نے تیار کیا تھا جو سکول آف آرٹس میں ورک اوور سیر تھے۔روپیہ جمع کرنے کا کام اور عام نگرانی حضرت قریشی محمد حسین صاحب موجد مفرح عنبری نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔چنانچہ آپ خود اپنے ہاتھ سے روڑی کوٹا کرتے تھے اور چندہ کی فراہمی کے لئے خطبہ جمعہ کے دوران ایسی درد بھری اور پُر جوش تقریریں کیا کرتے تھے کہ اکثر نمازی اپنی جیبیں خالی کر کے گھروں کو جایا کرتے تھے۔لاہور کی بعض دیگر مساجد مسجد احمد یه بیرون دہلی دروازہ پہلی مسجد ہے جسے جماعت احمد یہ لا ہور نے اپنے خرچ پر تعمیر کیا۔اس مسجد کے علاوہ بھی جماعت کے پاس بعض مساجد آ گئی تھیں مگر پھر آہستہ آہستہ غیروں کے ہاتھوں میں چلی گئیں۔منجملہ ان مساجد کے ایک مسجد کو چہ سیٹھاں لنگے منڈی میں تھی جس کے امام اور خطیب حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب تھے لاہور کی مشہور میاں فیملی کے مکانات بھی چونکہ اس مسجد کے محترم میاں محمد صاحب کو ایک غلط فہمی کی بناء پر صحابہ سیح موعود میں شامل کیا گیا ہے۔حضرت سید سردار احمد شاہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی بیعت کی تھی۔مؤلف