لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 450
450 آئے گا ) اور خود بھی وقتا فوقتاً جماعت کو خطوط لکھے۔چنانچہ حضور کی ایک چٹھی جو حضور نے حضرت حکیم محمد حسین صاحب موجد مفرح عنبری کو لکھی درج ذیل ہے: برادران! از طرف محمود احمد طرف جماعت احمد یہ لاہور السلام علیکم۔لاہور کی جماعت بوجہ اس کے کہ اس میں بعض ایسے دوست پائے جاتے ہیں جو حضرت مسیح موعود کے نہایت پرانے خادم ہیں اور بوجہ اس کے کہ لاہور پنجاب کا دارالخلافہ ہے اور بوجہ اس کے کہ وہ اس گروہ کا مرکز ہے جو سلسلہ احمدیہ سے علیحدہ ہو کر اپنا بن کر غیروں سے زیادہ سلسلہ کی مخالفت کر رہا ہے اور بوجہ اس کے کہ حضرت مسیح موعود و ہیں پر فوت ہوئے اور آپ کو وہاں جانے اور لیکچر دینے کے متعدد مواقع پیش آئے ایک خاص جماعت ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ مذکورہ بالا خصوصیات جو ان کو حاصل ہیں اس کا ان کو اچھی طرح احساس ہوگا اور وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کا اچھی طرح خیال رکھتے ہوں گے۔لیکن پھر بھی مزید تاکید کے لئے میں ان چند سطور کے ذریعہ انہیں ان کے فرائض کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔آپ لوگوں کو میرے ایک خط کے ذریعے سے معلوم ہوا ہوگا کہ میں نے بعض ضرورتوں کی وجہ سے لاہور کے عہدہ داروں کو خود منتخب کیا ہے جو عہدہ دار بدل گئے ہیں ان کے بدلنے کی یہ وجہ نہیں کہ ان کے کام میں کچھ نقص تھا بلکہ اس کا باعث اوّل تو خود شیخ عبدالحمید صاحب کا ایک خط تھا جو انہوں نے مجھے لکھا تھا جس میں انہوں نے بعض وجو ہات سے لاہور کی انجمن کے عہدہ داروں میں بعض تبدیلیوں کی خواہش کی تھی۔دوم اس کا باعث یہ تھا کہ شیخ صاحب کو اکثر سفر در پیش رہتا تھا جس کی وجہ سے بعض امور میں لاہور کی انجمن کے کام میں تعویق و تاخیر واقع ہو جاتی تھی ورنہ انہوں نے نہایت محبت اور اخلاص سے کام کیا ہے اور اس وجہ سے میں نے پسند نہیں کیا کہ ان کا تعلق اس عہدہ سے بکلی کٹ جائے۔د حکیم محمد حسین صاحب پرانے مخلص ہیں اور حضرت مسیح موعود سے خاص تعلق رکھتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ وہاں کے احباب ان کے کام میں ہاتھ بٹائیں گے اور ہر طرح ان کی مدد کریں گے اور میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ وہ اس شکایت کو جو وہاں کے سابق سیکرٹری