لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 449
449 ان ایام میں غیر مبائعین کے ساتھ بحث کرنے کے لئے حضرت مولوی صاحب کے خاص معاون حضرت میاں محمد سعید صاحب سعدی ابن حضرت میاں چراغ دین صاحب تھے۔میاں سعدی مرحوم کو مبائعین اور غیر مبائعین کے درمیان متنازعہ تحریرات زبانی یاد تھیں اور اس قسم کی تحریرات پر مشتمل آپ نے بعض ٹریکٹ بھی لکھے تھے۔حضرت میاں سعدی مرحوم کی وجہ سے اس خاندان کے بعض بچے بھی غیر مبائعین کے ساتھ گفتگو کا خاص ملکہ رکھتے تھے۔چنانچہ محترم میاں محمد عمر صاحب ابن حضرت میاں عبدالمجید صاحب اور پروفیسر میاں عبدالرحمن صاحب مرحوم ابن حضرت میاں احمد دین صاحب نے تو گویا ان کی وفات کے بعد ۱۹۴۰ء سے ان کا کام قریباً قریباً سنبھال ہی لیا تھا۔یہ وہ لوگ تھے جو خاص ملکہ رکھنے کی وجہ سے مشہور تھے۔لیکن عام گفتگو اس خاندان کے سارے افراد کر لیتے تھے اور اس کی وجہ ایک تو حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کا وجود تھا جن کا ہیڈ کوارٹر ان کا گھر تھا۔دوسرے اس خاندان کے ایک مشہور فرد حضرت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی شروع شروع میں غیر مبائعین کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔اور ایک لمبا زمانہ ان کے ساتھ رہے۔اپنے والد محترم حضرت میاں چراغ دین صاحب کی وفات کے بعد گوانہوں نے ایک رؤیاء کی بناء پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تھی مگر بعد عقائد میں ان کا اختلاف زندگی بھر رہا۔اور وہ بحث کے اس قدر شوقین دلدادہ اور عادی تھے کہ تھکتے ہی نہیں تھے۔خصوصاً مسئلہ نبوت کے متعلق تو وہ ساری عمر سلسلہ کے علماء اور اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ بخشیں کرتے رہے۔مناظرات بھی کئے۔چنانچہ ایک مناظرہ جو انہوں نے سلسلہ کے جید عالم حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے ساتھ کیا تھا، شائع بھی ہو چکا ہے۔حضرت حکیم صاحب موصوف چونکہ اس گھر میں رہتے تھے اور بحث مباحثہ ان کا ایک محبوب مشغلہ تھا اس لئے گھر کے سارے افراد کا ان کی بحثیں سن سن کر ان مسائل سے خوب واقف ہو گئے تھے۔راقم الحروف نے بھی ایک لمبا عرصہ حضرت حکیم صاحب کے ساتھ گفتگو کی ہے اور انہیں گفتگو کرتے ہوئے سنا بھی ہے۔ان کی گفتگو اپنے بھائی حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل کے ساتھ خاصی دلچسپ ہوا کرتی تھی۔لا ہور چونکہ غیر مبائعین کا مرکز تھا۔اس لئے غیر مبائعین کے لئے مرکز سے بھی بکثرت لٹریچر آیا کرتا تھا۔جسے جماعت غیر مبائعین بھائیوں میں تقسیم کیا کرتی تھی۔علاوہ ازیں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسند خلافت پر بیٹھتے ہی حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو لاہور بھجوایا ( مفصل ذکر آگے