لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 451
451 صاحب نے کی تھی کہ بعض لوگ کام میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں آئندہ پیدا نہ ہونے دیں گے۔” میرے عزیز بھائیو! دین کی حالت موجودہ اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اس میں کسی قسم کا تفرقہ کیا جائے یا کسی قسم کی غفلت سے کام لیا جائے۔پس اس موقعہ اور اس وقت کو پہچانو۔تا خدا کے دین کے خدام میں اور مخلص خدام میں آپ کا نام لکھا جائے ہمارے پاس وہ کونسی چیز ہے جس کے لئے ہم جھگڑیں کیا وہ کام جو ہم کرتے ہیں ایسا ہے کہ اس کے متعلق ہم اختلاف کریں ہمارے مال اور ہمارے چندہ جن کے متعلق بدظنیوں سے کام لیا جائے کیا اُخروی عزت ہمارے لئے کافی نہیں کیا اللہ تعالیٰ کی رضا ہمارے لئے بس نہیں کہ ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے دین میں تفرقہ اندازی کے موجب ہوں۔میں نے مولوی غلام رسول صاحب کو کوئی عہدہ نہیں دیا اس لئے نہیں کہ وہ اس کے اہل نہیں یا اس لئے کہ ان کا نام مجھے یاد نہیں تھا بلکہ اس لئے کہ لاہور کے کام کا لاہور کی جماعت ہی انتظام کرے مولوی صاحب میرے نائب اور قائم مقام ہی کے طور پر وہاں رہتے ہیں اس لئے ان کی حیثیت کو بدلنا میں نے پسند نہیں کیا۔پس آپ لوگ بھی امید ہے ان کی اس حیثیت کا خیال رکھیں گے اور امور دینیہ میں ان کے مشورہ اور رائے کے بغیر کوئی کام نہ کریں گے۔میں آخر میں آپ لوگوں کو اس امر کی طرف بھی متوجہ کرتا ہوں کہ آپ کے شہر سے جو فتنہ پھیل رہا ہے اس کا علاج زیادہ تر آپ لوگ ہی کر سکتے ہیں۔پس غفلت کو ترک کر کے تن دہی اور کوشش سے اس فتنہ کو مٹانے میں لگ جائیں تا آپ کے ذمہ کا وہ فرض ادا ہو جو مقام لاہور کی جماعت ہونے کی حیثیت سے خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔میں آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو دین و دنیا میں کامیاب فرمادے اور دوسری جماعتوں کے لئے نمونہ بنے کی توفیق آپ کو عطا ہو اور آپ کے تمام کام اتفاق و اتحاد سے ہوا کریں۔والسلام۔خاکسار مرزا محمود احمد