لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 448 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 448

448 پیشہ خدمات اور وجاہت کی وجہ سے جماعت میں کافی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اس لئے انہیں یقین تھا کہ جماعت کی اکثریت ان کے ساتھ شامل ہو جائے گی۔چنانچہ ان لوگوں نے مرکز سلسلہ سے نکل کر بیرونی جماعتوں میں طوفانی دورے شروع کر دیئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ عقائد کو خیر باد کہہ کر غیر احمد یوں کو خوش کرنے کے لئے نئے عقائد کی اشاعت بھی کثرت کے ساتھ شروع کر دی۔چنانچہ ان ایام میں جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اس امید کی بناء پر پہلی سالانہ رپورٹ میں لکھا کہ : حضرت مولانا محمد علی صاحب کی آواز گویا خدا تعالیٰ کی آواز ہے اور اس کے رسول کی آواز ہے اور اس کے خلیفہ برحق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز ہے۔یہ ضرور کامیاب ہوکر رہے گا اور جماعت کا بہترین حصہ جو اپنے سر میں دماغ اور دماغ میں عقل اور دل میں تقویٰ اللہ اور خشیت اللہ رکھتا ہے ضرور اس مرد میدان کے ساتھ شامل ہو جائے گا اور آخر کار یہ شخص کامیاب ہوکر رہے گا۔‘ل ادھر غلامان محمود نے بھی حضور کے ارشاد کے ماتحت ملک بھر کی جماعتوں کا دورہ کر کے انہیں اصل حقیقت سے آگاہ کرنا شروع کر دیا۔جس کا نتیجہ یہی نکلا کہ جاء الحق و زهق الباطل۔جماعت کی اکثریت نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور غیر مبائعین منہ تکتے رہ گئے۔البتہ چند مالدارلوگ بیشک ان کے ساتھ شامل ہو گئے جو اپنی دنیاوی مصلحتوں اور کاروباری مشکلات کی وجہ سے جماعت قادیان کا ساتھ دینے سے گھبراتے تھے۔لا ہور جو اس فتنے کا مرکز تھا اس میں حضرت خلیفہ المسح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت مولوی غلام رسول صاحب را یکی کو بھجوا دیا۔حضرت مولوی صاحب نے یہاں پہنچ کر دہلی دروازہ کے باہر حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور کے مکان واقعہ ”مبارک منزل‘ میں اپنا مرکز قائم کر لیا۔آپ لاہور میں حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی رہ چکے تھے اس لئے جماعت کے احباب آپ سے کافی مانوس تھے۔آپ نے تقریر اور تحریر کے ذریعہ سے غیر مبائعین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔مناظرات بھی کئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ جماعت کی اکثریت جوا کا برین غیر مبائعین کی وجاہت کی وجہ سے مرعوب تھی، اس پر اصل حقیقت کھل گئی اور وہ مبائعین میں شامل ہو گئے۔