لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 442 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 442

442 مرتبہ اس کا سلسلہ میں تسلیم نہیں ہوسکتا۔دوم : جو لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں ان کو از سر نو کسی شخص کی بیعت کی ضرورت نہیں۔دو سوم : مجلس معتمدین صدرانجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں سے قائم کیا۔اپنی وصیت میں اسے اپنا جانشین قرار دیا اور اپنی وفات سے صرف آٹھ نو ماہ پیشتر یہ تحریر اپنے ہاتھ سے لکھ کر دی کہ اس انجمن کے فیصلے آپ کے بعد بالکل قطعی ہوں گے۔اس انجمن کو توڑنے کے لئے حضرت خلیفہ اسیح کے ابتدائی ایامِ خلافت میں بڑی کوششیں کی گئیں اور آخری کوشش بڑے زور سے یہ کی گئی کہ قواعد میں اس امر کو درج کیا جائے کہ خلیفہ کے تمام فیصلے انجمن کے لئے قابل قبول ہوں گے اور وہ انجمن کے ممبروں میں سے جس کو چاہے نکال دیا کرے اور جسے چاہے داخل کر لیا کرے۔جو دراصل انجمن کو توڑنے کے ہم معنی ہے۔میں قوم کو اس خطرناک عنصر کے ارادوں اور منصوبوں سے صفائی سے اطلاع دیتا ہوں کہ اگر اس بات کو اب پھر اٹھایا جائے تو ساری قوم کا فرض ہے کہ اس کا زور سے مقابلہ کرے۔یہ سلسلہ پر وہ حملہ ہو گا جو اس کی بنیا دوں تک صدمہ پہنچائے گا اور حضرت مسیح موعود کے ہاتھ کے لگائے ہوئے پودے کو جڑوں سے اکھیڑ دے گا۔“ ( صفحه ۱۴-۱۵) چہارم :۔چوتھی بات جو میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مسئلہ کفر وا سلام میں خدا سے ڈر کر منہ سے لفظ نکالو۔“ پنجم : پانچ میں بات جو میں آخر کار آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ چونکہ حضرت خلیفتہ اسیح نے یہ فرما دیا ہے کہ ان کا کوئی جانشین ہو جو متقی ہو عالم باعمل ہو اور ہر دلعزیز ہو اس لئے صرف اس فرمان کی تعمیل کے لئے تم کسی شخص کو ضرورت کے وقت اس غرض کے لئے منتخب کر لو کہ وہ ہماری قوم میں سب پر ممتاز ہو۔تم اس کے حکموں کی قدر کرو۔بلا کسی سخت ضرورت کے اس سے اختلاف نہ کرو مگر قومی مشورہ سے اسے طے کرو چالیس انصار اللہ کے فیصلہ کو احمدی قوم کا فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔بلکہ انصار اللہ کا بھی نہیں کہا جا