لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 443
443 سکتا لیکن تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کو مدنظر رکھو۔اگر کہو کہ جانشین کے معنی یہ ہیں کہ جو حضرت خلیفہ امیج کرتے ہیں۔وہ بھی وہی کرے تو دیکھو تم الوصیت میں لکھا ہوا پڑھتے ہو اور یہ مامور من اللہ کا کلام ہے جس پر وہ اپنی وفات تک قائم رہا۔کہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے۔ہاں ایک شخص کو ممتاز حیثیت دے دو مگر قومی مشورہ سے جلدی میں نہیں۔۔ہاں میں بلا کسی ڈر کے یہ کہوں گا کہ مسلمان کی تکفیر کرنے والے تقویٰ سے الگ راہ پر قدم مارتے ہیں اور ہر دلعزیزی کی صفت بھی انہیں حاصل نہیں ہو سکتی۔(صفحہ ۱۹-۲۰ ) ایک بات اس ٹریکٹ میں مولوی صاحب نے یہ کھی تھی کہ جس شخص کو خلیفہ مقرر کیا جائے اس کے ہاتھ پر پرانے احمدیوں کو بیعت کرنے کی ضرورت نہیں۔حالانکہ اس امر کا فیصلہ خلافت اولی کے وقت ہو چکا تھا اور خود مجلس معتمدین کے ارکان یہ فیصلہ دے چکے تھے کہ احمدی جماعت کے نئے اور پرانے سب ممبروں کا فرض ہے کہ وہ حضرت خلیفہ اُسیح الاوّل کی بیعت کریں اور ان کا فرمان ہمارے لئے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کا تھا۔پھر مولوی صاحب فرماتے ہیں: دوسرے اس (یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الا ؤل کے جانشین۔مؤلف ) میں وہ باتیں موجود ہونی چاہئیں یعنی متقی ہو ہر دلعزیز ہو عالم باعمل ہو۔حضرت صاحب کے احباب سے نرمی اور درگذر سے کام لے۔ہاں میں بلا کسی ڈر کے یہ کہوں گا کہ مسلمانوں کی تکفیر کرنے والے تقویٰ سے الگ راہ پر قدم مارتے ہیں اور ہر دلعزیزی کی صفت بھی انہیں حاصل نہیں ہوسکتی۔“ مولوی صاحب کا یہ فقرہ کہ ہر دلعزیزی کی صفت بھی انہیں حاصل نہیں ہوسکتی“ ان کے اندرونہ کی غمازی کر رہا ہے۔مسئلہ کفر و اسلام سلسلہ احمدیہ میں کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں رہا جس کے لئے ہر کس و ناکس اپنا اپنا اجتہاد شروع کر دے۔حکم و عدل مسیح موعود علیہ السلام اس مسئلہ کونہایت وضاحت سے حل فرما چکے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کا مذہب بھی پیچھے بیان ہو چکا ہے۔اس کے باوجود محترم مولوی صاحب اور ان کے چند رفقاء کا واویلا کرتے چلا جانا خطر ناک شرارت نہیں تو اور کیا ہے؟ اصل میں مولوی صاحب یہ سمجھتے تھے کہ اس مسئلہ کی موجودگی میں وہ غیر احمد یوں میں ہر دلعزیز نہیں