لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 441
441 "بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خاکسار بقائی جو اس لکھتا ہے۔لا اله الا الله محمد رسول الله۔میرے بچے چھوٹے ہیں۔ہمارے گھر میں مال نہیں۔ان کا اللہ حافظ ہے۔ان کی پرورش یتامی و مساکین فنڈ سے نہیں۔کچھ قرضہ حسنہ جمع کیا جائے۔لائق لڑکے ادا کریں یا کتب جائیداد وقف علی الا ولا د ہو۔میرا جانشین متقی ہو ہر دلعزیز عالم باعمل ہو حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی در گذر کو کام میں لا وے۔میں سب کا خیر خواہ تھا وہ بھی خیر خواہ رہے۔قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔والسلام نور الدین۔۴۔مارچ ۱۹۱۴ء کے جب آپ وصیت لکھ چکے تو جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کو جو پاس ہی بیٹھے تھے ارشاد فرمایا کہ اسے پڑھ کر لوگوں کو سُنا دیں۔پھر دوبارہ اور سہ بارہ پڑھائی۔اور پھر دریافت فرمایا کہ کیا کوئی بات رہ تو نہیں گئی۔مولوی صاحب کا دل تو اپنے عزائم کے خلاف وصیت کو دیکھ کر غصے سے جل کر کباب ہور ہا تھا مگر حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے رعب کی وجہ سے بادل ناخواستہ کہنا پڑا کہ حضور ! بالکل درست حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی وفات اور موادی محمد علی صاحب کا کردار ۱۳ مارچ ۱۹۱۷ء : حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل ۱۳ - مارچ ۱۹۱۴ء کو وفات پاگئے۔فــان الله وانا اليه راجعون كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال و الاکرام اور مولوی محمد علی صاحب جو مجلس معتمدین اور دیگر متعددا حباب کے سامنے حضور کی وصیت تین مرتبہ سنا چکے تھے اور اس کے صحیح ہونے کی بھی تصدیق کر چکے تھے ان کے متعلق بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی یہ تصدیق بالکل منافقانہ رنگ رکھتی تھی کیونکہ انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی زندگی میں ہی ایک ٹریکٹ لکھ کر لاہور میں محفوظ کر رکھا تھا۔اس ٹریکٹ کا عنوان تھا ایک نہایت ضروری اعلان اور اس کا مضمون اول : ( حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات کے بعد۔مؤلف ) اگر کسی شخص کے ہاتھ پر چالیس آدمی بیعت کر لیں تو وہ بیشک اس بات کا تو مجاز ہے کہ ان لوگوں سے جو سلسلہ میں داخل نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام پر بیعت لے لے مگر اس سے زیادہ کوئی