لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 440 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 440

440 آمدم برسر مطلب - بیان پیر ہورہا تھا کہ جب احمد یہ بل نکس والوں نے ان ٹریکٹوں کے۔مضامین کے ساتھ اتفاق ظاہر کیا تو ان کا جواب دینا ضروری ہو گیا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے اراکین انجمن انصار اللہ قادیان کو فرمایا کہ ان ٹریکٹوں کا جواب تیار کر کے شائع کرو۔چنانچہ حضور کے حکم کی تعمیل میں انجمن مذکور نے پہلے ٹریکٹ کے جواب میں رسالہ ” خلافت احمدیہ “ اور دوسرے ٹریکٹ کے جواب میں رسالہ اظہار حقیقت“ لکھا اور جب ان رسالوں کا مسودہ حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش کیا گیا تو حضور نے اسے از اوّل تا آخر دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ سے اس مسودہ میں حسب ذیل الفاظ کا اضافہ فرمایا: ”ہزار ملامت ہو پیغام پر جس نے اپنی چٹھی کو شائع کر کے ہمیں پیغام جنگ دیا اور نفاق کا بھانڈا پھوڑ دیا۔الفتنة نـائـمـة لـعـن الـلـه من ايقظها - ( سوئے ہوئے فتنہ کو جگانے والے پر اللہ کی لعنت ہو ) خیر یہ ٹریکٹ شائع کر دیئے گئے اور جماعت میں بہت مقبول ہوئے۔اس موقعہ پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ۱۹۳۷ء میں استاذی المکرم حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب فاضل حلالپوری نے بھی ایک رسالہ بنام " بعض خاص کارنامے شائع فرمایا تھا جس میں اظہار الحق کے دونوں ٹریکٹوں کو بھی من و عن نقل کر دیا گیا تھا۔انجمن انصار اللہ اور حضرت مولانا مد اسماعیل صاحب دونوں کی طرف سے شائع شدہ جوا بات اپنے اپنے رنگ میں بے نظیر ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی آخری وصیت۔۴۔مارچ ۱۹۱۴ء یوں تو حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی صحت کافی عرصہ سے کمزور چلی آتی تھی۔مگر فروری ۱۹۱۴ء کے دوسرے ہفتہ میں زیادہ گرنا شروع ہو گئی۔آخر جب طبیعت زیادہ مشتعل ہوگئی تو ۴۔مارچ ۱۹۱۴ء عصر کے قریب لیٹے لیٹے حضور نے ایک وصیت تحریر فرمائی۔جو قلم کی خرابی کی وجہ سے اچھی طرح لکھی نہ گئی۔حضور نے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو اور قلم لانے کا حکم دیا۔چنانچہ مولوی صاحب نے دیسی قلم پیش کیا تو آپ نے پوری وصیت لکھی اور اس وصیت پر خود بھی دستخط کئے اور معتمدین صدر انجمن نے بھی۔وہ وصیت درج ذیل ہے۔اس پر