لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 439
439 ان ٹریکٹوں کے آخر میں داعی الی الوصیت کے الفاظ کے بعد مضمون نویس“ کے نام کو قینچی سے کاٹ دیا گیا تا کہ قارئین ٹریکٹ مذکورہ بالا مقدس ہستیوں پر لگائے گئے الزامات کا ثبوت طلب کرنے کے لئے مضمون نویس کی طرف رجوع نہ کر سکیں۔جماعت کو ان گمنام ٹریکٹوں کا جواب دینے کی تو ضرورت نہ تھی کیونکہ جب شائع کنندہ نے اپنا نام ہی ظاہر نہیں کیا تو قوم پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا تھا لیکن چونکہ اخبار ”پیغام صلح نے ان ٹریکٹوں کے مندرجات کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ جو ٹریکٹ ہم نے دیکھتے ہیں ان میں ذرہ شک نہیں کہ اکثر با تیں ان کی سچی ہیں“ نیز یہ بھی لکھا کہ ٹریکٹ ہائے کی بیان کردہ باتوں کے ساتھ اتفاق رائے رکھنے کے جرم میں اگر ہماری نسبت غلط فہمی پھیلائی جانی لاہوری انصار اللہ نے مناسب سمجھی ہے اور ہمارے خلاف کچھ لکھنے کا ارادہ کیا ہے تو ہماری طرف سے اگر کچھ کمی بیشی کا کلمہ لکھا گیا تو اس کی ذمہ داری بھی انہی پر ہوگی، راقم محمد منظور الہی میں ہر حرف سے متفق ہوں۔سید انعام اللہ شاہ یا در ہے کہ اس تحریر میں لاہوری انصار اللہ سے جماعت احمد یہ لاہور کے وہ بزرگ مراد ہیں جو احمد یہ بلڈنگس والوں کی روش کو سخت نا پسند کرتے تھے اور ان کے زہریلے پراپیگنڈہ کے ازالہ کی کوشش میں ہمہ تن مصروف رہتے تھے۔ان بزرگوں میں حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی موجد مفرح عنبری حضرت بابو غلام محمد صاحب فورمین حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس اعظم لاہور اور ان کے فرزندان (سوائے حضرت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی ) حضرت میاں معراج دین صاحب عمر حضرت منشی تاج الدین صاحب حضرت میاں حاجی محمد موسیٰ صاحب اور حضرت منشی محبوب عالم صاحب نیلہ گنبد وغیرہ اصحاب تھے۔یہ دوست حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی بنائی ہوئی اس انجمن انصار اللہ کے ممبر تھے جو آپ نے فروری 1911ء میں حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی اجازت اور منظوری سے بنائی تھی۔اس انجمن کا مقصد ہی یہ تھا کہ منکرین خلافت کے فتنہ کا مقابلہ کیا جائے اور جماعت کے سادہ لوح اصحاب کو اس میں ملوث ہونے سے بچایا جائے۔