لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 430
430 رافضی کو جا کر کہہ دو کہ علی کا حق تھا ابو بکر نے لے لیا۔میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی بحثوں سے تمہیں کیا اخلاقی یا روحانی فائدہ پہنچتا ہے۔جس کو خدا تعالیٰ نے چاہا خلیفہ بنا دیا اور تمہاری گردنیں اس کے سامنے جھکا دیں۔خدا تعالیٰ کے اس فعل کے بعد بھی تم اس پر اعتراض کرو تو سخت حماقت ہے۔میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آدم کو خلیفہ بنایا کس نے ؟ اللہ تعالیٰ نے۔فرمایا انــی جاعل في الارض خليفة۔اس خلافتِ آدم پر فرشتوں نے اعتراض کیا کہ وہ مفسد فی الارض اور مفسک الدم ہوگا۔مگر انہوں نے اعتراض کر کے کیا پھل پایا ؟ تم قرآن مجید میں پڑھ لو کہ آخر انہیں آدم کے لئے سجدہ کرنا پڑا۔پس اگر کوئی مجھ پر اعتراض کرے اور وہ اعتراض کرنے والا فرشتہ بھی ہو تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آدم کی خلافت کے سامنے مسجود ہو جاؤ تو بہتر ہے۔اگر وہ ابی و استکبار کو اپنا شعار بنا کر ابلیس بنتا ہے تو پھر یا در کھے کہ ابلیس کو آدم کی مخالفت نے کیا پھل دیا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی فرشتہ بن کر بھی میری خلافت پر اعتراض کرتا ہے تو سعادت مند فطرت اسے وَ اسْجُدُوا لَا دَمَ کی طرف لے آئے گی اور اگر ابلیس ہے تو اس دربار سے نکل جائے گا۔وو پھر دوسرا خلیفہ داؤدتھا يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلُكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ ترجمہ۔اے داؤد ! تجھے زمین میں خلیفہ ہمیں نے بنایا ہے داؤد کو بھی خدا ہی نے خلیفہ بنایا۔ان کی مخالفت کرنے والوں نے تو یہاں تک ایجی ٹیشن کی کہ وہ انارکسٹ لوگ آپ کے قلعہ پر حملہ آور ہوئے اور کود پڑے۔مگر جس کو خدا نے خلیفہ بنایا تھا کون تھا جو اس کی مخالفت کر کے نیک نتیجہ دیکھ سکے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو خلیفہ بنایا۔رافضی اب تک اس خلافت کا ماتم کر رہے ہیں۔مگر کیا تم نہیں دیکھتے۔کروڑوں انسان ہیں جو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر درود پڑھتے ہیں۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے بھی خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔یہ وہ مسجد ہے جس نے میرے دل کو خوش کیا۔اس کے بانیوں اور امداد کنندوں