لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 431
431 کیلئے میں نے بہت دعا کی ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ میری دعائیں عرش تک پہنچی ہیں۔میں اس مسجد میں کھڑے ہو کر جس نے مجھے بہت خوش کیا اور اس شہر میں آ کر اس مسجد ہی میں آنے سے خوشی ہوتی ہے۔میں اس کو ظاہر کرتا ہوں کہ جس طرح پر آدم داؤد اور ابوبکر و عمر کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔اگر کوئی کہے کہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔اس قسم کے خیالات ہلاکت کی حد تک پہنچاتے ہیں تم ان سے بچو۔پھر سن لو کہ مجھے نہ کسی انسان نے نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا ہے اور نہ ہی میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے۔پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے بنایا اور نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں اور نہ اب کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا کو مجھ سے چھین لے۔اب سوال ہوتا ہے کہ خلافت حق کس کا ہے؟ ایک میرا نہایت ہی پیارا محمود ہے جو میرے آقا اور محسن کا بیٹا ہے۔پھر دامادی کے لحاظ سے نواب محمد علی خاں کو کہہ دیں۔پھر خسر کی حیثیت سے ناصر نواب صاحب کا حق ہے یا ام المومنین کا حق ہے جو حضرت صاحب کی بیوی ہیں۔یہی لوگ ہیں جو خلافت کے حقدار ہو سکتے ہیں۔مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو لوگ خلافت کے متعلق بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا حق کسی اور نے لے لیا ہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ سب کے سب میرے فرمانبردار اور وفادار ہیں اور انہوں نے اپنا دعویٰ ان کے سامنے پیش نہیں کیا۔مرزا صاحب کی اولا د دل سے میری فدائی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جتنی فرمانبرداری میرا پیارا محمود بشیر شریف نواب ناصر نواب محمد علی خاں کرتا ہے تم میں سے ایک بھی نظر نہیں آتا۔میں کسی لحاظ سے نہیں کہتا بلکہ میں امر واقعہ کا اعلان کرتا ہوں کہ ان کو خدا کی رضا کے لئے محبت ہے۔بیوی صاحبہ کے منہ سے بیسیوں مرتبہ میں نے سنا ہے کہ میں تو آپ کی لونڈی ہوں۔میاں محمود بالغ ہے۔اس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے۔ہاں ایک معترض کہ سکتا ہے کہ سچا فرمانبردار نہیں ( مگر نہیں ) میں خوب