لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 388
388 کے خرچ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی مگر حضور کی وفات پر جماعت سے الگ ہو گئے تھے۔آپ کی وفات ۱۳۔نومبر ۱۹۴۷ء ۱۹۴۵ء کے موسم گرما میں آپ ترجمہ القرآن انگریزی کے سلسلہ میں مع دفتر عملہ و ڈلہوزی میں تشریف فرما تھے۔وہاں بندش پیشاب کی شکایت ہو گئی۔جب با وجود علاج ڈلہوزی میں آرام کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو حضور نے حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کو ہدایت فرمائی کہ مولوی صاحب کو پہاڑ کی مرطوب آب و ہوا سے قادیان کے پرسکون ماحول میں لے جائیں۔چنانچہ اس کے لئے حضرت نے اپنی کار بھی عطا فرمائی۔قادیان میں کچھ عرصہ آرام رہا مگر پھر یہ تکلیف عود کر آئی۔اس عرصہ میں لاہور میں ہومیو پیتھک علاج سے اللہ تعالیٰ نے اس مرض میں افاقہ کی صورت پیدا کر دی۔۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک کا ہنگامہ برپا ہوا۔انہی خطر ناک ایام میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے ماتحت پہلے قافلہ میں قادیان سے آپ لاہور پہنچے۔احمد یہ ہوٹل کے ایک کمرہ میں قیام فرمایا۔طبیعت پہلے ہی کمزور تھی۔پیشاب کی تکلیف اور بڑھ گئی۔میں اکتوبر ۱۹۴۷ء کو آپ میوہسپتال میں داخل کر دیئے گئے۔کرنل امیر الدین صاحب نے پراسٹیٹ گلینڈ (Prostate) (Gland کا پہلا آپریشن کیا۔کچھ روز ٹھہر کر دوسرا آپریشن ہونا تھا مگر اچانک آپ کو کھانسی کی شکایت ہوگئی۔ساتھ ہی شدید اسہال شروع ہو گئے۔طاقت کے ٹیکے لگائے گئے۔پھلوں کا رس دیا گیا۔غذاؤں میں ساگودانہ اراروٹ وغیرہ بھی استعمال کرائی گئیں۔مگر کمزوری دن بدن بڑھتی گئی۔یہاں تک کہ ۱۳۔نومبر ۱۹۴۷ء کو آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہوگئی۔انا للہ و انا اليه راجعون كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاکرام ڈاکٹر ملک نذیر احمد صاحب ریاض نے حضرت مولوی شیر علی صاحب کی سیرت پر ایک رسالہ لکھا ہے جس کا دیباچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا تحریر فرمودہ ہے۔اس دیباچہ میں حضرت مولوی صاحب کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اختصار کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہاں درج کر دیا جائے۔وہو ہذا : حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم میرے استاد بھی تھے اور دوست بھی تھے اور