لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 389
389 رفیق کا ر بھی تھے۔مجھے ان کے اخلاق اور حالات زندگی کو بڑے غور کے ساتھ مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا ہے۔میں کامل یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حضرت مولوی صاحب مرحوم حقیقتاً ایک فرشتہ سیرت بزرگ تھے اور ان کے متعلق لوگوں کی زبان پر فرشتے کا لفظ غالباً الہی تصرف کے ماتحت جاری ہوا تھا۔اور ممکن ہے کہ اس کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ کشف بھی ہو جس میں حضور نے دیکھا کہ حضور کے سامنے ایک فرشتہ آیا ہے جس کا نام ”شیر علی“ ہے۔فرشتوں کی مخصوص صفت جو قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے وہ یفعلو مایومرون ہے۔یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری کا کامل نمونہ ہوتے اور ہمیشہ ان کا قدم اسی رستہ پر اٹھتا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت کے مطابق ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو ایک ایسی پاک جماعت عطا کی۔اور ایسے اصحاب دیئے جو اپنی مخصوص صفات میں ”آخرین منھم“ کے کامل نمونہ تھے لیکن حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم میں میں نے جو رنگ للہیت کا دیکھا اور جس قسم کی بے نفسی ان کے وجود میں پائی وہ دوسری جگہ بہت کم نظر آتی ہے۔دعاؤں میں انتہائی شغف عبادات میں ایسی لذت کہ گویا روح ہر وقت آستانہ الہی کی طرف شوق کے ساتھ جھکی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء وقت کا انتہائی اکرام اور اطاعت ادو دوستوں کے ساتھ غیر معمولی جذبہ شفقت، یہ حضرت مولوی صاحب کے نمایاں اوصاف تھے۔جس کی وجہ سے ان کے اندر ایک ایسی روحانی کشش پیدا ہو گئی تھی جس کی مثال وہ خود ہی تھے۔حضرت مولوی صاحب کا طریق تھا کہ اپنی اکثر دعاؤں کو صرف سورۃ فاتحہ اور درود تک محدود رکھتے اور انہی دو مبارک ترین دعاؤں میں وہ اپنے اور اپنے احباب کے سارے دینی اور دنیوی مقاصد کوملحوظ رکھ لیتے تھے اور اس سوز و درد کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے کہ جیسے ایک ہنڈیا چولہے پر اُبل رہی ہو۔اگر مجھ سے کوئی شخص حضرت مولوی صاحب کے متعلق یہ پوچھے کہ ان کی سب سے بڑی نمایاں صفت کیا تھی تو میں یہی کہوں گا کہ دعاؤں اور عبادت میں شغف اور اس سے اتر کر مخلوق خدا کی ہمدردی اور اسے ہر رنگ میں فائدہ