لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 387
387 ضروری کام ہے۔بعض دوستوں نے مجھے تلاش کیا۔موجود نہ پا کر حضرت مولوی صاحب سے عرض کیا یہاں تو نہیں۔ہم ان کو ابھی بلا لاتے ہیں۔اس پر اس مجسمہ اخلاق نے نہایت ہی سادگی سے فرمایا کام تو مجھے ان سے ہے اس لئے مجھے خود جانا چاہئے اس واقعہ کی اہمیت اس امر سے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ آپ مقامی امیر ہونے کے باوجود دو تین دوستوں کو ہمراہ لئے میری جائے رہائش پر تشریف لائے۔اور مجھے باہر بلا کر آپ نے کوئی بات دریافت فرمائی۔جس کے متعلق اب میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیا تھی۔مکارم الاخلاق عموماً با اثر لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ پبلک اداروں میں جا کر اپنے اثر ورسوخ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنا کام پہلے کروالیتے ہیں۔لیکن حضرت مولوی شیر علی صاحب اس بارہ میں بہت محتاط تھے۔میں نے آپ کو نور ہسپتال میں دوائی لیتے دیکھا ہے۔باوجود یکہ بعض اوقات آپ کی بزرگانہ شان اور بلند شخصیت کے پیش نظر ہسپتال کا عملہ آپ کو پہلے دوائی دینے کی پیشکش کرتا لیکن آپ ہمیشہ یہی فرماتے کہ ” میں اپنی باری پر دوائی لوں گا“ تبلیغ کا شوق غالباً ۱۹۳۱ء کی بات ہے خاکسار کو مری میں حضرت مولوی شیر علی صاحب کے ساتھ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گذارنے کا موقعہ ملا۔آپ عصر کے بعد جب سیر کو نکلا کرتے تو عموماً کسی نہ کسی شخص کو تبلیغ ضرور کرتے۔ایک مرتبہ ہم محترم ملک فیروز خان صاحب نون کے والد محترم ملک محمد حیات خاں صاحب ریٹائر ڈ کمشنر کی کوٹھی ”نون ہاؤس‘ گئے۔آپ نے خاں صاحب سے وعدہ لیا کہ وہ ایک مرتبہ قادیان ضرور جائیں گے۔اسی طرح ایک مرتبہ ہم محترم شیخ تیمور صاحب ایم۔اے پرنسپل اسلامیہ کالج پشاور سے ملے۔انہوں نے ہماری دعوت بھی کی۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کا شاگرد ہونے کی وجہ سے حضرت مولوی شیر علی صاحب کے ساتھ ان کے پرانے مراسم تھے اس لئے وہ بہت محبت سے پیش آئے اور قادیان جانے کا وعدہ کیا۔یادر ہے کہ محترم شیخ صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ