لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 378 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 378

378 ولادت: حضرت ملک غلام محمد صاحب بیعت : ۱۹۰۸ء زیارت : ۱۹۰۲ء وفات : ۳۔جولائی ۱۹۵۸ء ملک غلام محمد صاحب ملک بسوصا حب لا ہور کا بیان ہے کہ میرے والد مرحوم کے سید محمد علی شاہ صاحب مرحوم سکنہ قادیان کے ساتھ بہت تعلقات تھے۔ان کے ذریعہ میرا قادیان آنا جانا ہوا۔میں پہلی مرتبہ قادیان تقریباً ۱۸۸۷ء میں گیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔۱۹۰۲ء میں زیارت نصیب ہوئی۔میں بہت سے حالات حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو لکھ کر دے چکا ہوں۔البتہ ایک بات مزید یاد آ گئی۔وہ یہ کہ جب میں نے ۱۹۰۸ء میں لاہور میں بیعت کی تو انہی ایام میں حضور ایک دفعہ جمعہ یا نماز ظہر کے لئے اندرون خانہ سے باہر تشریف لائے۔اس وقت حضور کی نظر میری طرف اٹھی اور اس نظر میں ایسا اثر تھا کہ میں پسینہ پسینہ ہو گیا۔حضور کی نظر اس وقت بڑی جلالی نظر تھی۔حضرت ملک صاحب کا کاروبار بڑا وسیع تھا۔زمیندارہ بھی کافی پھیلا ہوا تھا۔خلافت ثانیہ کی ابتداء میں آپ خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی دوستی کی وجہ سے غیر مبائعین میں شامل ہو گئے تھے۔مگر کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے پھر آپ کو جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔پھر تو آپ ایسے فدائی بن گئے کہ باوجود بڑھاپے کے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے سفروں میں بھی عموماً ساتھ رہتے تھے۔آپ نے ۳۔جولائی ۱۹۵۸ء کو نماز فجر کے وقت حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے وفات پائی۔انا لله وانا اليه راجعون۔اولاد: ملک عبد الرحمن۔ملک عبد الرحیم۔ملک عبد العزیز۔ملک محمد عبد اللہ مستری عباس محمد صاحب گنج مغلپورہ ولادت: ۹۴-۱۸۹۳ء بمقام ملتان بیعت حضور کی وفات سے چند دن پہلے لاہور میں : مستری عباس محمد صاحب گنج مغلپورہ نے فرمایا کہ : میرے والد صاحب کا نام حضرت میاں جمال الدین صاحب تھا۔میاں جمال الدین صاحب