لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 377 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 377

377 میں دیا۔امتحان دینے کے بعد واپس گاؤں پہنچے اور گاؤں سے قادیان جا کر شروع اپریل ۱۹۰۸ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمد یہ عالیہ میں داخل ہو گئے۔آپ کے والد ماجد حضرت مولوی عمرالدین صاحب بھی صحابی تھے۔ملازمت آپ نے فیروز پور کے قلعہ میں آرڈینینس ڈیپارٹمنٹ میں شروع کی۔کچھ عرصہ وہاں کام کے بعد آپ شملہ تشریف لے گئے اور ملٹری فائنس ڈیپارٹمنٹ میں ساری مدت ملازمت گزار دی۔(۱۹۱۳ء سے لیکر ۱۹۴۵ء تک) اس محکمہ میں آپ پہلے مسلمان تھے مگر آہستہ آہستہ آپ کی کوشش سے کافی مسلمان اس محکمہ میں بھرتی ہو گئے۔احمدی احباب میں سے محترم حافظ عبدالسلام صاحب وکیل المال تحریک جدید محترم جناب میاں عبدالحق صاحب را مه ناظر بیت المال، محترم جناب فضل محمد خاں صاحب خاص طور پر مشہور ہیں۔محترم جناب مرزا عبدالحق صاحب صوبائی امیر اور محترم جناب شیخ یوسف علی صاحب مرحوم سابق پرائیویٹ سیکرٹری نے بھی کچھ عرصہ اس محکمہ میں کام کیا۔جتنا عرصہ آپ شملہ میں رہے۔مختلف جماعتی عہدوں پر متمکن رہے مگر زیادہ عرصہ آپ کے پاس سیکرٹری مال کا عہدہ رہا۔حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ چونکہ آپ کے کام کو جانتے تھے اس لئے آپ جب اس محکمہ سے ریٹائر ہو کر پنشن پر آگئے تو آپ کو سٹینڈ نگ فائنٹس بجٹ کمیٹی کا ممبر نامزدفرمایا۔۱۹۴۷ء تک آپ قادیان میں رہے۔پھر لاہور آ گئے۔اور ۱۹۵۲ء سے دفتر جماعت احمد یہ لاہور کے انچارج ہیں۔منارة اسبیح قادیان کی تعمیر کے لئے جن احباب نے چندہ دیا۔ان میں آپ اور آپ کے والد ماجد دونوں شامل تھے۔چنانچہ دونوں کے نام ” منارۃ اصبح “ پر کندہ ہیں۔تحریک جدید اور وقف جدید کے چندوں میں بھی آپ شروع سے حصہ لے رہے ہیں۔۱۹۲۸ء میں جو قرآن کریم کا درس حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے دیا تھا اس میں بھی آپ شامل ہوئے تھے۔آپ فرمایا کرتے ہیں کہ سورہ انفال کی تفسیر آپ نے حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے سبقاً سبقاً پڑھی تھی۔اولاد: عبدالمجید۔عبدالرشید۔طاہر شیم۔شاہد سلیم۔ناصر سلیم۔زبیدہ بیگم۔رشیدہ بیگم۔عفت ریقہ۔طیبہ صادقہ۔نزہت پروین۔رضیہ بشری۔