لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 363
363 کر جو میں نے اس خواب پر غور کیا تو میرے دل نے گواہی دی کہ یہ اس دعا کا نتیجہ ہے جو تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت معلوم کرنے کے لئے کی ہے۔چنانچہ جب جلسہ سالانہ عشاء کے ایام آئے تو میں جلسہ میں شمولیت کیلئے قادیان چلا گیا۔مسجد اقصیٰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرسی پر تشریف فرما تھے اور تقریر کر رہے تھے۔نہایت ہی نورانی چہرہ دیکھ کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ تو کوئی فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ایسا شخص ہر گز کا ذب نہیں ہو سکتا۔چنانچہ جب تقریرختم ہوئی اور یہ اعلان ہوا کہ جو دوست بیعت کرنا چاہتے ہوں وہ کر لیں۔تو میں بھی بیعت کرنے والوں میں شامل ہو گیا۔جلسہ سے فارغ ہو کر جب گاؤں پہنچا تو شدید مخالفت ہوئی مگر میں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔آخر 1919ء میں وہاں سے ہجرت کر کے قادیان چلا گیا اور ۱۹۴۷ء میں ہجرت کے بعد لاہور پہنچ گیا۔کئی سال تک لاہور میں رہا اور اب ربوہ میں ہوں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ محترم حکیم صاحب کی عمر اس وقت اسی سال کے لگ بھگ ہوگی بلکہ ممکن ہے زیادہ ہو کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۴ء میں جو سورج اور چاند کو گرہن لگا وہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اسے ستر اکہتر سال ہو گئے ہیں۔اگر ان ایام میں آپ کی عمر بارہ چودہ سال کی بھی ہو تو اس وقت (۱۹۶۵ء میں ) آپ کی عمر اسی سال سے زیادہ بنتی ہے۔آپ حکیم ہیں اور حکمت کی دوکان کرتے ہیں۔نہایت ہی سادہ اور دیہاتی وضع کے بزرگ ہیں۔قد لمبا، جسم مضبوط اور صحت اچھی ہے۔پانچوں وقت مسجد میں جا کر نماز ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی صحت اور عمر میں برکت دے۔آمین۔بہت خوب آدمی ہیں۔اولاد: محمد عالم مرحوم، بشیر الدین، حفیظ بیگم، نظیر بیگم۔ولادت: حضرت ملک خدا بخش صاحب رضی اللہ عنہ بیعت : ٩٠٧اء زیارت : ۱۹۰۸ء وفات : ۱۷۔دسمبر ۱۹۴۸ء محترم ملک خدا بخش صاحب کی روایات درج ذیل ہیں : ا۔میں نے حضور کو نماز کی حالت میں دیکھا ہے۔آپ کھڑے ہونے کی حالت میں اپنی گردن دائیں بازو کی طرف جھکائے ہوئے ہوتے تھے۔