لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 362
362 محترم قاری غلام مجتبی صاحب چینی قادیانی ولادت : ۱۸۷۰ء بیعت : ۱۹۰۶ ء وفات : ۲۴۔اکتوبر ۱۹۶۲ء عمر : ۹۲ سال حضرت قاری صاحب موصوف تحصیل کھاریاں ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔۲۴۔اکتوبر ۱۹۶۲ء میں وکٹوریہ جیل ہانگ کانگ (چین) سے بعہدہ چیف وارڈن ریٹائر ہو کر قادیان میں سکونت اختیار کر لی اور تقسیم برصغیر تک وہیں رہے۔اس کے بعد ایک لمبا عرصہ لاہور میں رہائش رکھی اور یہیں وفات پائی۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ مسیح موعود میں مدفون ہیں۔مرحوم بہت مستعد نیک سادہ اور عبادت گزار بزرگ تھے۔قادیان میں کافی عرصہ تک بعہدہ جنرل پریذیڈنٹ خدمات بجالاتے رہے۔اولا د : عبد القادر صاحب سول سرجن اور چار بہنیں۔محترم حکیم رحمت اللہ صاحب ولادت: بیعت : دسمبر ۱۹۰۷ء محترم حکیم رحمت اللہ صاحب بہت پرانے بزرگ ہیں۔والد محترم کا نام حکیم محد بخش صاحب تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ موضع نواں پنڈ متصل گورداسپور میں ہمارے نہایت ہی قریبی رشتہ داروں میں ایک بزرگ مولوی محمد علی نامی تھے۔میں ان کی ملاقات کیلئے وہاں گیا۔انہوں نے مجھے احمدیت کی تبلیغ کی۔میں نے ان کے ساتھ کافی تکرار کی۔انہوں نے فرمایا کہ رحمت اللہ ! اس طرح بحث سے ضد پیدا ہوتی ہے۔تم خدا تعالیٰ سے دعا مانگو کہ اے خدا! اگر مرزا صاحب اپنے دعوئی میں سچے ہیں تو مجھے ہدایت دیدے۔انہوں نے ایک کتاب بھی تحفہ گولڑویہ مجھے مطالعہ کیلئے دی اور یہ بھی فرمایا کہ ۱۵ روز کے بعد جلسہ سالانہ ہے اس موقعہ پر ضرور قادیان چلو اور مامور من اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔میرے دل کو یہ بات پسند آئی۔میرا اپنا گاؤں موضع جو گووال تھا جو گورداسپور سے سات میل کے فاصلہ پر ہے۔میں نے گاؤں میں پہنچ کر دعا شروع کر دی۔چند دن کے بعد خواب میں دیکھا کہ ایک نہایت سیدھی صاف اور سفید سڑک ہے جو زمین سے کچھ اونچی ہے۔اس کے دو طرفہ گھنے درخت لگے ہوئے ہیں۔اور وہ ہمارے گاؤں سے سیدھی قادیان کو جا رہی ہے۔قادیان ہمارے گاؤں سے گیارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔صبح اٹھ