لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 364
364 ۲۔میں نے حضور کو تقریر فرماتے دیکھا ہے۔یہ وہ تقریر ہے جو لاہور میں رؤساء لا ہور کو دعوت دے کر کی گئی تھی۔تقریر فرماتے وقت حضور کا وجود مبارک ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے گویا ایک تصویر ہے جو بول رہی ہے۔آنکھیں نیم وا معلوم ہوتی تھیں۔اور کوئی حرکت ہاتھ پاؤں سے نہیں فرماتے تھے۔حضور کے ہاتھ میں سونٹی بھی تھی۔۔مذکورہ بالا تقریر کے اختتام پر حضور کی خدمت میں دودھ کا ایک گلاس پیش کیا گیا۔ہم تبرک کی خواہش میں گھتم گتھا بھی ہوئے۔چنانچہ کچھ دودھ جو فرش پر گر گیا تھا اسے بھی ہم نے اپنی زبانوں سے اٹھا لیا تھا۔خاکسار راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ محترم ملک خدا بخش صاحب محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب کی امارت کے زمانہ میں ایک عرصہ تک جماعت احمدیہ لاہور کے جنرل سیکرٹری رہے اور نہایت ہی محنت اور کوشش سے کام کیا۔میں نے نہ صرف ان کو دیکھا ہے بلکہ تقسیم ملک سے پہلے اور بعد میں جب کہ میرا تقر ر لاہور میں بحیثیت مبلغ تھا۔ان کے ساتھ کام بھی کیا۔آپ نہایت ہی معزز اور وجیہ انسان تھے اور سلسلہ کی خدمت کے لئے دن رات وقف کر رکھا تھا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے زمانہ امارت میں پہلے پرائیویٹ سیکرٹری اور پھر جنرل سیکرٹری رہے۔بعد میں محترم شیخ بشیر احمد صاحب کے زمانہ میں بھی جنرل سیکرٹری کے طور پر کام کرتے رہے۔حضرت ملک صاحب کی وفات پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے جو نوٹ’ الفضل “ میں لکھا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر اس کا ایک ضروری اقتباس درج کر دیا جائے۔آپ نے تحریر فرمایا: میں ملک صاحب مرحوم کو بڑے لمبے عرصہ سے جانتا ہوں۔وہ نہایت مخلص اور فدائی اور سچے معنوں میں ایک قابل قدر کارکن تھے۔جب بھی سلسلہ کا کوئی کام پیش آتا تھا۔وہ اس کام میں ہمیشہ دوسروں سے پیش پیش نظر آتے تھے۔اور اس بات میں ذرہ بھر شبہ نہیں کہ وہ لا ہور کی جماعت کے ایک بھاری رکن تھے۔جن کی وفات نے لاہور کی جماعت میں یقیناً خلا پیدا کر دیا ہے۔میں ان لوگوں میں سے تو نہیں ہوں کہ یہ سمجھوں یا یہ کہوں کہ فلاں خلا بھرا نہیں جاسکتا۔کیونکہ ایسا خیال خدا کی صفت خلق و تکوین کے خلاف ہے اور اسی طرح وہ ہمارے مشاہدہ کے بھی خلاف ہے۔مگر میں یہ بات ضرور کہوں گا کہ یہ خلا ایسا ہی ہے