لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 361
361 سابق نام سورن سنگھ تھا۔وسط ۱۹۰۶ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ میں شمولیت اختیار کی۔حضرت اقدس ان کے اسلام کی طرف مائل ہونے کے حالات سن کر بہت محظوظ ہوئے اور فرمایا کہ ان کا لیکچر ہونا چاہئے۔چنانچہ انہوں نے ۲۹۔جون ۱۹۰۶ء کو مسجد اقصیٰ میں لیکچر دیا جو آپ کا پہلا لیکچر تھا۔ہماری جماعت میں آپ پہلے آدمی تھے جنہیں سکھوں میں تبلیغ کا شوق تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چشمہ معرفت میں سکھوں کی متبرک کتاب گورو گرنتھ صاحب اور جنم ساکھی سے حضرت باوا نا نک صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو مسلمان ثابت کرنے کیلئے جو شلوک اور ساکھیاں پیش کی ہیں ان میں آپ حضور علیہ السلام کے معاون تھے۔آپ نے سکھ قوم میں تبلیغ کرنے کے لئے اخبار ” نور“ قادیان سے نکالا تھا اور دو درجن کے قریب کتابیں بھی شائع کیں۔قرآن مجید اور سیرت النبی کا ہندی اور گورکھی دونوں زبانوں میں ترجمہ بھی کیا۔تقسیم ملک کے بعد آپ نے لاہور میں رہائش اختیار کی اور پھر کچھ عرصہ گوجرانوالہ میں بھی رہے۔۶۰ سال کی عمر پا کر ۶۔مئی ۱۹۵۲ء کو وفات پائی۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔انا لله و انا اليه راجعون۔اولاد: شیخ محمد آصف شیخ محمد موسی، آمنہ بیگم مرحومه شیخ محمد ہارون شیخ محمد ادریس، شیخ محمد یحی، شیخ بشیر احمد مبارکہ نسیم صادقہ نیم۔محترم خواجہ محمد دین صاحب بٹ۔ولادت: ۱۸۸۳ء بیعت : ۱۹۰۶ ء وفات : ۶ نومبر ۱۹۶۰ء عمر : ۷۷ سال محترم خواجہ محمد دین صاحب بٹ ولد حسن محمد صاحب بٹ کرشن نگر لاہور میں رہتے تھے۔بہت نیک، متقی اور پر ہیز گار بزرگ تھے۔قادیان میں سبزی کی دوکان تھی۔یہ ایک ایسا کاروبار ہے جس کا پھیلاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے دکان بار بار بند نہیں کی جاسکتی۔مگر حضرت خواجہ صاحب دکان کھلی چھوڑ کر نماز با جماعت کیلئے مسجد چلے جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے زمانہ کی باتیں بھی گاہکوں کو سنایا کرتے تھے۔تقسیم ملک کے بعد کرشن نگر لاہور رہائش اختیار کی۔بڑی باقاعدگی کے ساتھ جمعہ کی نماز کیلئے مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ آیا کرتے تھے۔آپ کی ولادت ۱۸۸۳ء کو ہوئی۔بیعت ۱۹۰۶ء میں کی اور وفات ۶۔نومبر ۱۹۶۰ء کو ہوئی۔۷۷ سال عمر پائی بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوۓ۔انا للہ و انا اليه راجعون۔اولاد نسیم احمد سعید احمد بشیر احمد رشید احمد