لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 315 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 315

315 آپ نے نومبر ۱۹۳۳ء کے پیغام صلح میں اپنے حالات زندگی خود تحریر فرمائے تھے۔جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کے بزرگ حنفی المذہب تھے۔مگر آپ چونکہ ہر وقت سچائی کی جستجو میں لگے رہتے تھے۔اس لئے جلد ہی آپ اہلحدیث گروہ میں شامل ہو گئے۔سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ میں پڑھتے تھے۔جہاں پادری سنگ سن سے بحث و مباحثہ رہتا تھا۔مگر حیات مسیح کے عقیدہ کی وجہ سے سخت ڈک اٹھانا پڑتی تھی۔جس کی وجہ سے اسلام پر شبہات پیدا ہو گئے تھے۔بعض مرتبہ یہ بھی خیال آتا تھا کہ کیوں نہ آریہ بن جائیں۔طبیعت کی اس بے چینی کے زمانہ میں آپ کے دادا صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”فتح اسلام دکھائی اور فرمایا کہ دیکھو چودھویں صدی کا کرشمہ کہ ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی نے مثیل مسیح ہونے کا دعوی کیا ہے اور یہ کتاب اس نے شائع کی ہے۔آپ نے جو اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو جب تک ختم نہ ہوئی اسے ہاتھ سے نہ چھوڑا۔خصوصاً وفات مسیح کا مسئلہ تو دل میں ایسا اثر کر گیا کہ آپ خوشی سے اچھل پڑے۔کچھ دنوں بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے گئے اور حضرت حکیم حسام الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے مکان پر قیام فرمایا۔حضرت کو دیکھتے ہی دل اس یقین سے بھر گیا کہ یہ منہ جھوٹے کا نہیں ہو سکتا۔حضور کی اقتداء میں عصر کی نماز بھی پڑھی۔مختلف مسائل اسلامیہ پر گفتگو بھی سنی۔مگر حضور کے تشریف لے جانے کے بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے صدر سیالکوٹ کی جامع مسجد میں ایسی گمراہ کن تقریر کی کہ آپ کا روحانی سکون برباد ہو گیا۔اب گو آپ نے مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کے پیچھے نمازیں پڑھنا شروع کیں مگر پہلا خطبہ سن کر ہی آپ کی طبیعت منغض ہو گئی۔ان ایام میں آپ کو ایک چشتیہ صابر یہ خاندان کے صوفی منش بزرگ سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ان سے آپ نے بہت سے اور ا د وظائف سیکھے مگر طبیعت کو سکون نصیب نہ ہوا۔انہی ایام میں ایک فوجی احمدی حضرت مولوی جلال الدین صاحب مرحوم سے براہین احمدیہ مل گئی۔اسے پڑھ کر ایمان میں تازگی پیدا ہوئی اور یقین ہو گیا کہ حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام کی صداقت کے دلائل صرف آپ ہی بیان کر سکتے ہیں۔لاہور میں اسلامی اصول کی فلاسفی والا مضمون سن کر اس خیال کو اور بھی تقویت پہنچی۔اس کے بعد آپ کچھ عرصہ کے لئے بسلسلہ ملازمت افریقہ چلے گئے۔وہاں بھی بعض احمد یوں سے ملاقات رہی۔جب واپس آئے تو پہلے ظفر وال ضلع سیالکوٹ میں اور پھر شکر گڑھ ضلع گورداسپور میں پلیگ ڈیوٹی پر متعین