لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 316
316 ہوئے۔اہل وعیال امرتسر میں تھے۔ایک روز جو یہ اطلاع ملی کہ آپ کا لڑ کا ممتاز احمد جو اس وقت دو سال کا تھا بعارضہ ٹائیفائیڈ فیور سخت بیمار ہے تو آپ گھبرا گئے۔ایک ہفتہ کی رخصت لے کر گھر پہنچے۔مگر رخصت ختم ہوئی اور بچے کے بخار میں ذرہ بھر افاقہ نہ ہوا۔بیگم صاحبہ نے کہا گورداسپور تو جانا ہی ہے قادیان میں جا کر حضرت مرزا صاحب سے دعا ہی کروالو۔کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ فضل کر دے۔بیوی کے یہ الفاظ سن کر قادیان کی راہ لی۔دو بجے رات قادیان پہنچے۔دیکھا کہ مسجد مبارک تہجد گزار لوگوں سے بھری ہوئی ہے اور حضرت اقدس اندر تہجد پڑھ رہے ہیں۔یہ کیفیت دیکھ کر بے حد اثر ہوا۔اپنے پرانے رفیق حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے آپ کو حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا۔پس حضور کو دیکھتے ہی سارے شکوک و شبہات کا فور ہو گئے علیحدگی میں ملاقات کی۔وظیفہ پوچھا تو فرمایا ” یہی نمازیں سنوار سنوار کر پڑھو اور سمجھ سمجھ کر پڑھا کرو“ حضور کی یہ تلقین سن کر دل پر خاص اثر ہوا۔بچے کی صحت کے لئے دعا کی درخواست کی۔حضور نے اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا فرما دی۔بیعت کر کے ڈیوٹی پشکر گڑھ پہنچے۔تیسرے روز خط ملا جس میں لکھا تھا کہ لڑکا بالکل اچھا ہے ہرگز کوئی فکر نہ کریں۔رخصت لے کر گھر پہنچے۔پتہ چلا کہ جس روز صبح حضرت اقدس سے دعا کروائی تھی اس روز حالت بہت خراب تھی مگر پچھلی رات اچانک بخار اتر گیا۔معالج ڈاکٹر کو جب اطلاع ہوئی تو وہ مانتا ہی نہ تھا مگر جب اس نے خود آ کر ٹمپر پچر لیا اور نبض دیکھی تو حیران رہ گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو کوئی اعجاز مسیحائی ہے کہ مردہ زندہ ہو آپ نےا نے ۲۱۔اپریل ۱۹۴۳ء کو بمقام بمبئی وفات پائی۔جہاں آپ اپنے بیٹے میاں این۔اے فاروقی کے ہاں مقیم تھے۔فانا لله و انا اليه راجعون۔محترم با بو شمس الدین صاحب بٹ ولادت : ۳۔فروری ۱۸۹۰ء بیعت : ۳-۱۹۰۲ء محترم با بو شمس الدین صاحب بٹ کا بیان ہے کہ میرے والد صاحب بزرگوار میاں کریم بخش سود اگر اسپان اور پنجاب کے مشہور و معروف پنجابی شاعر بابا ہدایت اللہ آپس میں حقیقی ماموں اور پھوپھا زاد برادر تھے۔لہذا میرے والد صاحب نے