لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 314
314 زندگی بھر ان کے ساتھ ہی رہے۔غالباً ۱۹۲۴ ء میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری سے مسئلہ کفر و اسلام پر مری میں (جہاں آپ بسلسلہ ملازمت مقیم تھے ) چند معززین کے سامنے تبادلہ خیالات کیا جس سے آپ پر مولانا موصوف کی قابلیت کا سکہ بیٹھ گیا۔اسی تبادلہ خیالات کا تذکرہ میں نے اپنی کتاب ”حیات نور“ میں کیا ہے۔اس تبادلہ خیالات کے نتیجہ میں محترم مولانا کے ساتھ آپ زندگی بھر بہت عزت واحترام سے پیش آتے رہے۔مجھے یاد ہے ۱۹۳۱ء۔میں جب محترم مولانا اپنی مشہور کتاب تفہیمات ربانیہ کی تصنیف کے سلسلہ میں مری تشریف لے گئے تھے تو خاکسار راقم الحروف بھی ساتھ تھا۔ایک مرتبہ سیر کے دوران میں محترم ڈاکٹر صاحب ہمیں رستہ میں بڑے ہی تپاک سے ملے اور دوسرے روز اپنی کوٹھی پر چائے کی دعوت دی۔غرض مرحوم بہت خوبیوں کے مالک تھے مگر غصیلے ہونے کی وجہ سے بعض اوقات مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں ایسے کلمات بھی کہہ جاتے تھے جن سے ہمارے نزدیک حضور علیہ السلام کی کسرشان ہوتی تھی۔آپ کی وفات ۲۶ اپریل ۱۹۳۹ء کو مسلم ٹاؤن لاہور میں ہوئی نماز تہجد کے دوران میں آپ بے ہوش ہو گئے اور اسی شام سوا اٹھ بجے اکسٹھ سال کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔فانا لله و انا اليه راجعون۔و محترم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب ( غیر مبائع) ولادت: ۳۔اکتوبر ۲ ۱۸۷ ء بیعت : ۱۹۰۲ ء وفات : ۲۱۔اپریل ۱۹۴۳ء محترم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر ۱۹۰۲ء میں بیعت کی اور نیکی اور اخلاص میں بہت ترقی کی۔چنانچہ حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کے گھوڑے سے گرنے کے بعد کئی روز تک آپ حضور کے علاج کے سلسلہ میں قادیان میں مقیم رہے۔بسلسلہ ملازمت جہاں بھی رہے۔قرآن کریم کا درس با قاعدگی کے ساتھ دیتے رہے۔آپ بھی خلافت ثانیہ کی ابتداء میں جناب مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔آپ کی تصانیف میں سے ”مسجد داعظم“ خاص طور پر مشہور ہے۔اگر اس کتاب میں سے اس حصہ کو نکال دیا جائے جو جماعت احمد یہ قادیان اور سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی عداوت میں لکھا گیا ہے تو کتاب فی الجملہ بہت اچھی ہے۔