لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 309
309 لاؤ۔منشی محبوب عالم صاحب اور کئی اور احباب سوڈا واٹرکسی اور دودھ وغیرہ لائے مگر حضور نے فرمایا کہ ہم پانی پیئیں گے جس پر پانی لا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔میں نے اس موقعہ پر آپ کی خدمت میں ایک پونڈ پیش کیا۔جسے حضور نے دودفعہ عذر کرنے کے بعد قبول فرمالیا۔ے۔میں نے ایک دفعہ حضور کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھایا ہے۔حضور کھانا بہت ہی کم کھایا کرتے - حضور کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات دستار مبارک کے پیچ بالکل بے ترتیب سے ہوتے تھے۔یہی حال قمیض اور کوٹ کے بٹنوں کا ہوتا تھا۔یعنی جو بٹن اوپر کا ہوتا تھا وہ نیچے کے کاج میں لگا ہوتا تھا اور نیچے کا بٹن اوپر کے کاج میں۔۹۔اس زمانہ میں میرا کئی سال تک یہ دستور العمل رہا کہ بٹالہ اسٹیشن پر ایک جمعدار کے پاس ایک سائیکل ٹھوس ٹائروں والا رکھا ہوتا تھا۔جمعہ کے روز میں لاہور سے بٹالہ تک گاڑی میں اور وہاں سے سائیکل پر سوار ہو کر قادیان جاتا۔جمعہ کی نماز کے بعد واپس سائیکل پر بٹالہ آ جاتا۔جہاں سے گاڑی پر سوار ہوکر لا ہور آ جاتا۔۱۰۔میں نے قادیان میں ریل گاڑی جاری کرنے کے متعلق بہت کوشش کی۔۱۹۱۵ء سے لیکر ۱۹۲۴ ء تک میں نے یہ کوشش جاری رکھی۔اس عرصہ میں میں نے ایک دفعہ ڈنڈوت کالری کی لائن کی نیلامی میں بولی دی جو بارہ میل کی لائن تھی۔ایسا ہی ایک دفعہ آگرہ کی طرف بولی دی۔اس کے بعد ڈپٹی کمشنر گورداسپور اور ڈسٹرکٹ بورڈ کے پاس بھی کئی دفعہ گیا۔اور وہاں پر اس کے متعلق سوال اٹھایا۔سری گوبند پور تک جا کر اس کے متعلق سروے بھی کی۔اس کے لئے ایک انجنیئر کو ساتھ لیا اور باقاعدہ نقشہ تیار کر وایا۔ایک تجویز یہ بھی تھی کہ ایک کمپنی جاری ہو جس کے کئی حصہ دار ہوں اور وہ اس ریلوے کو جاری کر دے۔آخر جب اس قسم کی درخواست ریلوے بورڈ میں دی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس ریل کو خود تیار کریں گے اور اس کا نمبر ۷ ا مقرر کر دیا گیا۔اس کے بعد ہم خاموش ہو گئے کیونکہ ہما را مقصد منافع کمانانہ تھا۔بلکہ ریل کا جاری کروانا تھا۔چنا نچہ تین سال بعد ریل جاری ہوگئی۔جب امرتسر سے پہلی گاڑی چلنے لگی تو اس سے کچھ وقت پیشتر پلیٹ فارم پر بیٹھے ہوئے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ آج تمہاری کوشش کامیاب ہوئی۔اس کوشش میں میرا قریباً بارہ