لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 308
308 موقعہ پر میں قادیان میں چند دن ٹھہرا تھا اور حضور علیہ السلام کی دستی بیعت بھی کی۔روزانہ صبح آپ سیر کو تشریف لے جاتے تھے۔میں بھی ہمراہ ہوتا تھا۔آپ کی رفتار عام لوگوں سے کچھ تیز ہوتی تھی۔ان ایام میں آپ منگل کی طرف تشریف لیجاتے تھے۔۲۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے قریشی محمد حسین صاحب کو خط لکھا کہ آپ پوستین کا نرخ دریافت کر کے لکھیں کہ تا پتہ لگے کہ آیا میں خرید بھی سکتا ہوں یا نہیں۔قریشی صاحب نے وہ خط میرے سامنے پڑھا۔اسی دن میں نے پوستین خریدی جس کی قیمت قریباً ۴۵ روپے تھی اور دوسرے دن قادیان جا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔اس وقت حضور باغ میں تشریف فرما تھے۔۳- چند بار آمد ورفت ہو جانے کی وجہ سے میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ میرا ارادہ نکاح ثانی کرنے کا ہے۔ابھی میں یہ کہنا ہی چاہتا تھا کہ حضور دعا فرما دیں کہ حضور نے فوراً فرمایا۔ہاں بہت مبارک ہے میں دعا کروں گا۔چنانچہ اس کے بعد میں نے دوسرا نکاح کیا اور یہ رشتہ بہت بابرکت ثابت ہوا۔میری یہ اہلیہ بہت ہی متقی تھی اور موصیہ بھی۔اب بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہے۔۴۔جب بہشتی مقبرہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی منشا کے ماتحت حضور نے اس کی تجویز فرمائی تو میں ان دنوں قادیان میں ہی تھا۔حضور نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ جو شخص اس قبرستان میں دفن ہو گا وہ ضرور بہشتی ہو گا۔ہو سکتا ہے کہ جو اس کے باہر دفن ہو وہ بھی بہشتی ہومگر اس میں جو دفن ہوگا وہ ضرور بہشتی ہوگا۔اس کے بعد حضور نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اس کا نقشہ آپ تجویز کریں۔چنانچہ میں نے یہ نقشہ بنا کر حضور کی خدمت میں پیش کیا اور ساتھ ہی یہ خواہش کی کہ جس جگہ حضور کی اب قبر مبارک ہے اس جگہ میری قبر ہو۔اس موقعہ پر حضور نے فرمایا کہ یہ خدا کے علم میں ہے کہ اس جگہ کون دفن ہوگا۔حضور نے قرآن کی آیت بھی پڑھی جو مجھے یاد نہیں رہی۔اس کے بعد اس قبرستان کے نقشہ میں حضرت نانا جان نے ترمیم بھی کی تھی اور سڑکیں وغیرہ بنائی تھیں۔۵۔پہلے میر اوصیت نمبر ۱۶ تھا مگر اس کے بعد پل کا چندہ چونکہ دیر سے بھیجا گیا تھا اس لئے موجودہ نمبر ۶۵ ہو گیا۔۔ایک دفعہ ۱۹۰۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام میری دکان واقع نیلہ گنبد میں تشریف لائے۔کچھ دیر کھڑے رہنے کے بعد دکان سے باہر ہی ایک کرسی پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ پانی