لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 310
310 تیرہ ہزار روپیہ صرف ہوا۔ا۔ایک دفعہ میرے لڑکے عبدالمجید نے جس کی عمر اس وقت چار برس کی تھی۔اس بات پر اصرار کیا کہ میں نے حضرت صاحب کو چمٹ کر (چھی ڈال کر ) ملنا ہے ( یعنی ملاقات کرنا ہے۔ناقل ) اس نے مغرب کے وقت سے لے کر صبح تک یہ ضد جاری رکھی اور ہمیں رات کو بہت دق کیا۔صبح اٹھ کر پہلی گاڑی سے میں اسے لے کر بٹالہ پہنچا اور وہاں سے ٹانگہ پر ہم قادیان گئے اور جاتے ہی حضرت صاحب کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ عبدالمجید آپ کو بھی پا کر ملنا چاہتا ہے۔حضور اس موقعہ پر باہر تشریف لائے اور عبدالمجید آپ کی ٹانگوں کو چمٹ گیا اور اس طرح اس نے ملاقات کی اور کہا کہ ”ہن ٹھنڈ پے گئی اے ، اس وقت عبدالمجید کی عمر لگ بھگ چالیس سال کے ہے۔۱۲۔آخری ایام میں جب حضور لاہور میں تشریف لائے تو میں حضور کے ہمراہ ہر روز عصر کے بعد سیر کو جایا کرتا تھا۔آپ فٹن پر سوار ہو کر تشریف لے جاتے تھے اور میں آپ کے ساتھ سائیکل پر جاتا تھا۔ان ایام میں ایک روز حضرت ام المومنین کے کہنے پر میں نے ایک دوست سے حضور کے لئے موٹر مانگی۔( ان ایام میں سارے لاہور میں دو یا تین موٹر کا ر تھے ) جب حضور کو پتہ لگا تو فرمایا کہ بیوی صاحبہ موٹر کار پر چلی جائیں، میں نہیں جاؤں گا۔ان ایام میں دوسرے اوقات میں بھی میں حضور کے ہمراہ اکثر رہتا۔آپ نے ان دنوں میں یہ بھی فرمایا کہ محمد موسیٰ ! آپ نے دین کی بہت خدمت کی ہے۔۱۳۔میرے ایک چچازاد بھائی عبداللہ صاحب میری دوکان پر ملازم تھے جو کہ نہایت مخالف تھے۔آخری ایام میں جب حضور لا ہور تشریف لائے تو کئی روز میں نے ان سے تقاضا کیا کہ آپ جا کر دیکھ تو آئیں۔مگر وہ انکار ہی کرتے چلے گئے۔آخر ایک روز میرے اصرار پر کہنے لگے۔کہ دہاڑی ( یومیہ مزدوری ) چھوڑ کر کون جائے۔میں نے کہا کہ میں آپ کو دہاڑی نہیں کا تھا۔آپ چلے جائیں۔چنانچہ جب وہ گئے تو اس کے بعد میں بھی گیارہ بجے وہاں گیا اور میں نے دیکھا کہ ان پر حضور کی صحبت کا بہت نیک اثر پڑا ہے۔چنانچہ ان کی حالت بدل چکی تھی اور وہ بیعت پر آمادہ تھے۔میں نے کہا آپ تو اس قدر مخالف تھے ذرا ٹھہر جائیں۔اس کے بعد ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ اب تو بیعت کرنے سے رک نہیں سکتا۔عصر کے بعد بھی ایسا ہی کہا اور میں ان کو روکتا رہا کہ سوچ لو۔آخر دوسرے یعنی اب تسلی ہو گئی ہے۔یعنی ۱۹۳۹ء میں جب کہ یہ روایات لکھی گئیں (مؤلف)