لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 306
306 اصل واقعہ کا علم ہوا تو فرمایا کہ تم اسے مزدوری کم دیتے ہوگے۔غریب آدمی ہے۔پھر فرمایا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ ایک روٹی کیلئے دو دفعہ جہنم میں جھانکتا ہے۔یہ آٹا اسی کو دے دو اور اس کی مزدوری زیادہ کر دو اور اسے طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بناؤ۔۹۔میاں معراج دین صاحب عمر کے پاس حضرت اقدس کا عصا اور میاں عبدالعزیز صاحب کے پاس حضور کا ایک گرم کوٹ اور گھڑی تھی۔میاں عبدالعزیز صاحب کے بٹوے میں ایک روپیہ ملکہ وکٹوریہ والا رکھا رہتا تھا جو حضرت صاحب نے میاں صاحب کو اپنے ہاتھ سے عنایت فرمایا تھا۔یہ روپیہ آخر تک ان کے پاس رہا۔میاں معراج دین صاحب کے پاس حضرت کی ایک کتاب کا مسودہ بھی تھا۔حضرت والد صاحب کے پاس حضرت اقدس کی ایک پگڑی تھی جو نو زائیدہ بچوں کے کرتے بنا بنا کرختم کر دی۔ان میں سے ایک کر تہ میرے بچے عبدالوحید کو بھی ملا تھا جو مجھ سے بعد میں ضائع ہو گیا۔۱۰۔حضرت والد بزرگوار کو بھی طبی معلومات کا شوق تھا اور مجھے بھی۔اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح اول کے طبی نوٹ کچھ محفوظ رہے اور بہت سے ضائع ہو گئے۔جو باقی تھے وہ میاں عبدالوہاب صاحب دس روپے برادرم محمد عیسی کو دے کر سب کے سب لے گئے۔اس بات کا جب مجھے علم ہوا تو مجھے بے حد دکھ ہوا کیونکہ وہ حضرت خلیفہ امسیح اول کے طبی نوادرات اور رموز کا ایک بیش بہا خزا نہ تھا۔اب صرف حضرت کے الفاظ اور طبی نسخے چند ایک میرے پاس موجود ہیں۔محترم ڈاکٹر صاحب کی رہائش آج کل ۶۸۔سی ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہے۔اولا د : عبدالوحید مرحوم عبد السلیم ، عبد القدیر آفتاب احمد ناصر احمد بسم اللہ بیگم بلقیس مبارکہ مرحومہ بلقیس مطہرہ سارہ جبیں، مریم امت الرؤف مرحومه طوبی نشین مرحومه طوبی قدر حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ صاحب نیلہ گنبد ولادت : ۱۸۷۲ء بیعت : ۱۹۰۲ ء بذریعہ خط وفات : دسمبر ۱۹۴۵ء حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ صاحب نیلہ گنبد لاہور نے فرمایا کہ ا۔بیعت کرنے سے چھ سات ماہ پہلے میں قادیان گیا۔اس وقت میرے رشتہ داروں نے وہاں جانے کی سخت مخالفت کی تھی اور مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں وہاں جا کر حضرت مرزا صاحب کے گھر کا