لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 305 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 305

305 عموماً ٹہل ٹہل کر لکھا کرتے تھے۔پوسٹ کارڈ بھی میں نے حضور کو کھڑے ہو کر لکھتے دیکھا۔۴۔حضور کھانے پینے کی اشیاء میں کبھی نقص نہ نکالتے تھے۔چنانچہ حضور معہ خدام ایک دفعہ ہمارے مکان واقعہ دہلی دروازہ پر تشریف فرما ہوئے۔دادا میاں نے ۱۵ سیر دودھ چائے کے لئے منگوایا۔اور بڑے مستی حمام میں یہ چائے تیار کی گئی۔ہمارے چچا میاں عبدالعزیز صاحب مغل نے سب سے پہلے ایک پیالی حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کی۔حضور نے یہ چائے نوش فرما لی۔جب دوسرے احباب کو یہ چائے ملی تو معلوم ہوا کہ اس میں نہ چینی ہے نہ نمک۔ہر طرف سے چینی کا مطالبہ ہونے لگا۔اس پر چائے میں چینی ڈالی گئی اور حضرت اقدس کی خدمت میں بھی پھر ایک پیالی معذرت کے ساتھ پیش کی گئی جو حضور نے قبول فرمالی۔۵۔حضور مسکراتے وقت منہ پر ہاتھ رکھ لیا کرتے تھے۔حضور نماز کی امامت بہت کم کرایا کرتے تھے۔بوٹ پہنے کی عادت نہیں تھی۔عموماً دیسی جوتا ہی پسند فرماتے تھے۔جب باہر تشریف لاتے تو ہاتھ میں عصا ہوتا تھا۔ہر روز صبح سیر فرمایا کرتے تھے۔چلنے میں تیز قدم تھے۔حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب سیر میں بہت پیچھے رہ جاتے تھے۔حضور ان کی خاطر چلتے چلتے ٹھہر جایا کرتے اور فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب کو آنے دو۔۔حضرت اقدس کو اگر کوئی شخص کچھ ہدیہ پیش کرتا تو حضورا اسے قبول فرما لیتے تھے۔میں نوجوان لڑکا تھا حضور خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں تشریف فرما تھے اور احباب مصافحہ کیلئے آ رہے تھے۔ہر احمدی حضور کی خدمت میں کچھ نہ کچھ نذرانہ پیش کرتا تھا۔میری جیب میں ایک دونی چاندی کی تھی جو بہت ہی چھوٹی سی ہوا کرتی تھی۔میں نے بھی مصافحہ کرتے وقت وہ حضور کے ہاتھ میں دے دی۔جسے حضور نے قبول فرما لیا۔ے۔ایک دفعہ ہمارے مکان پر کسی نے حضور سے کچھ مانگا۔حضور نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ رقم نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔اس پر کسی عورت نے کہا۔حضور ! یہ تو غیر احمدی ہے۔حضور مسکرا کر خاموش ہور ہے۔سبحان اللہ !۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میاں کا لونا نبائی نے لنگر خانہ کے عملہ کے ایک آدمی کو آٹا چوری کرتے ہوئے پکڑ لیا۔احاطہ کے اندر شور برپا ہوا۔حضرت اقدس نے پوچھا۔کیا بات ہے؟ جب حضور کو