لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 295 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 295

295 احمدیت کی دعوت دی گئی تھی۔یہ اشتہار پڑھ کر آپ کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت پیدا ہوگئی اور آپ صداقت احمدیت کے قائل ہو گئے۔چنانچہ آپ اور آپ کی اہلیہ صاحبہ حضرت سکینہ بیگم دونوں نے ۱۹۰۰ ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔اس کے بعد سلسلہ کے ساتھ جوں جوں واقفیت بڑھتی گئی آپ ایمان اور عرفان میں ترقی کرتے چلے گئے۔حتی کہ طاعون کی شدت کے زمانہ میں جب کہ عام موتا موتی لگ رہی تھی اور لوگوں پر خوف و ہر اس طاری تھا اور لاہور کی ہر گلی کوچہ میں لوگ اکٹھے ہو کر یہ مشہور فقرہ پڑھا کرتے تھے۔تو بہ تسیج استغفار اسیں بندے گناہگار به آپ دیوانہ وار تبلیغ میں مصروف تھے۔ان ایام میں آپ اندرون بھاٹی دروازہ لاہور محلہ پٹ رنگاں میں ایک چوبارے پر رہا کرتے تھے اور نیچے اور لوگ رہتے تھے۔جب وہ سب ایک ایک کر کے طاعون کا شکار ہو گئے حتی کہ ان کا کتا بھی طاعون سے مر گیا تو آپ کو لوگوں نے کہا کہ شیخ صاحب آپ کی نچلی منزل کے سارے لوگ طاعون سے مر گئے ہیں۔آپ مہربانی فرما کر یہ چوبارہ خالی کر کے کسی اور مکان میں چلے جائیں یہ جگہ خطرناک ہے۔اس پر آپ فرمایا کرتے تھے کہ طاعون کے کیڑے احمدیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔چنانچہ کشتی نوح سے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پیش کر کے لوگوں کو کہا کرتے تھے کہ اگر تم بھی طاعون سے محفوظ رہنا چاہتے ہو تو آؤ! احمدیت قبول کر قرآن کریم سے آپ کو اس قدر عشق تھا کہ اکثر کر آنکھوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گردگھوموں کعبہ میرا یہی ہے بار ہا فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ قرآن کریم کا طواف کروں۔قرآن کریم کے اندر خوشبو دار پھول رکھا کرتے تھے اور تلاوت کرتے وقت قرآن کریم کو چومنا ان کی عادت میں داخل تھا۔آپ صاحب قلم بھی تھے۔گوجرانوالہ کی رہائش کے ایام میں آپ وہاں سیکرٹری تبلیغ تھے۔چنانچہ سیکرٹری تبلیغ کی حیثیت میں آپ نے متعدد تبلیغی پمفلٹ لکھے۔میاں بیوی دونوں بے حد مہمان نواز تھے۔جب آپ نے سرکاری ملازمت ترک کر کے پشاور