لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 294 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 294

294 ۱۳۱۷ھ ما در شفیقہ نصرت جہاں بیگم تقسیم ملک کے بعد آپ ماڈل ٹاؤن لاہور میں ۱۹۴۷ ء سے لے کر دسمبر ۱۹۵۴ء تک مقیم رہے۔یہاں آپ نے رسالہ ” نامہ پاکستان کے چند نمبر نکالے جو ملک کی نامور ہستیوں کو بھیجے گئے اور بہت پسند کئے گئے۔مشہور اخبار ” نوائے وقت“ نے بھی اپنی ایک اشاعت میں’نامہ پاکستان شائع کیا اور اس پر تبصرہ بھی لکھا۔حضرت امیر المومنین خلیفة لمسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جب حصہ جائیداد کی ادائیگی کی تحریک فرمائی تو آپ نے خاصی کوشش کر کے اپنی وصیت کی رقم ادا فرما دی۔اولاد : ڈاکٹر احسان علی۔سردار رحمت اللہ۔سردار عبدالرحمن۔حمیدہ صابرہ۔امتہ الحفیظ بیگم۔سردار عبدالمنان۔سردار عبدالسلام۔سردار عبدالحمید۔سردار عبدالرشید ۴۶ پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں ۲۴ پڑپوتے اور پڑپوتیاں ۱۴۔جنوری ۱۹۵۵ء بروز جمعہ ایک بجے بعد دو پہر حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے اپنے مولا حقیقی کو جاملے۔انا لله و انا اليه راجعون۔حضرت مولا نا را جیکی نے تاریخ وفات غفران مآب لکھی اور مقبرہ بہشتی ربوہ میں قطعہ صحابہ میں دفن ہوئے۔حضرت شیخ مشتاق حسین صاحب ولادت : ۱۸۷۸ء بیعت :واء وفات : ۲۳۔اگست ۱۹۴۹ء حضرت شیخ مشتاق حسین صاحب کے والد محترم کا نام حضرت شیخ عمر بخش صاحب تھا۔آپ گورنمنٹ کنٹریکٹر بننے سے قبل ریلوے میں کلرک تھے۔دہلی دروازہ کے باہر آپ نے جماعت احمدیہ کی طرف سے دیواروں پر ایک پوسٹر لگا ہوا دیکھا جس میں حضرت مسیح موعود کے دعوئی کا ذکر کر کے قبول