لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 296 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 296

296 یں ٹھیکیداری کا کام شروع کیا تو وہ خلاف اولیٰ کا زمانہ تھا۔جب حضرت خلیفہ اصبح الا ول کی وفات کی اطلاع ملی تو پشاور میں سب سے پہلے آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی بیعت بذریعہ تار کی۔اور بعد ازاں جب قادیان سے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت علامہ محمد اسماعیل صاحب حلالپوری پر مشتمل وفد پشاور پہنچا تو اس کا قیام بھی پرست آپ ہی کے ڈیرہ پر رہا۔حضرت مولوی غلام حسن صاحب پشاوری کے ساتھ مناظرہ قرار پایا تھا اور حضرت مولوی صاحب نے اپنی طرف سے حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری کو منا ظر مقرر کیا تھا۔چنانچہ خلافت ثانیہ کے پہلے جلسہ سالانہ کے دوران ہی حضرت قاضی صاحب قادیان پہنچے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بیعت کر لی جس پر حضرت شیخ صاحب کو بہت خوشی ہوئی۔حضرت شیخ صاحب سلسلہ کے سارے اخبارات منگوایا کرتے تھے۔کتا بیں بھی کافی تعداد میں جمع کر رکھی تھیں اور بعض کتب کے تو کئی کئی نسخے زیر تبلیغ افراد میں تقسیم کرنے کیلئے خرید لاتے تھے۔ذیل میں آپ کی چند روایات درج کی جاتی ہیں جو آپ نے خود خاکسار سے بیان کیں۔۱ ۱۹۰۰ ء یا لن ۹اء کا واقعہ ہے کہ سالانہ جلسہ کے ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔نماز ظہر کا وقت تھا اور نمازی جمع تھے۔حضور نماز ادا کرنے کے بعد تقریر فرما ر ہے تھے اس وقت ایک شخص باہر سے آیا اور وہ دوستوں کے سر سے پھاند تا ہوا حضور کے قریب چلا گیا اس کی اس جد و جہد میں ایک دوست کی پگڑی اُتر گئی اور اس نے حضور کو شکایتی رقعہ لکھ دیا۔حضور اس کو پڑھ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور گھر کی کھڑکی کے پاس پہنچ کر حضرت مولانا نورالدین صاحب کو بلایا اور کھڑکی کے پاس چند باتیں کر کے اندر تشریف لے گئے۔مولوی صاحب واپس آ کر کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع کی۔تقریر تو دس پندرہ منٹ فرمائی تھی جو گو مجھے ساری یاد نہیں لیکن اس کے شروع کے الفاظ مجھے آج بھی من وعن یاد ہیں۔فرمایا۔دیکھو! آج میں تمہیں ایک خوفناک بات سنا تا ہوں۔خود نہیں بلکہ مامور کیا گیا ہوں کہ تمہیں بتاؤں کہ آج ہمارا امام دعا کر رہا ہے کہ ” خشک ڈالی مجھ سے کاٹی جاوے۔تم دوسروں کا سر کچل کر خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتے قرب الہی اس کے فضل سے ملتا ہے۔۲۔حضور کی وفات سے چند روز پہلے ایک رئیس دہلی حافظ عبدالکریم صاحب نے مجھ سے خواہش کی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ان کی ملاقات کروا دوں۔اس وقت حضور لا ہور میں تشریف