لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 27 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 27

27 صاحب بھیروی سے فرمایا کہ آپ بھی کچھ تقریر کریں۔اس پر حضرت مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ نے مرزا صاحب کا دعویٰ اور اس کے دلائل آپ کی زبان سے سنے اور اللہ تعالیٰ کے اُن وعدوں اور بشارتوں کو بھی سنا جو ان مخالف حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہیں۔تمہارے اس شہر والے لوگ مجھے اور میرے خاندان کو جانتے ہیں۔علماء بھی مجھ سے نا واقف نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن کا فہم دیا ہے۔میں نے بہت غور مرزا صاحب کے دعاوی پر کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں۔ان کی خدمات اسلامی کو دیکھا اور ان کی مخالفت کرنے والوں کے حالات پر غور کیا تو قرآن مجید نے میری رہنمائی فرمائی۔میں نے دیکھا کہ ان سے پہلے آنے والوں کا مقابلہ جس طرح پر کیا گیا وہی اب ہو رہا ہے۔گویا اس پرانی تاریخ کو دہرایا جارہا ہے۔میں کلمہ شہادت پڑھ کر کہتا ہوں کہ مرزا حق پر ہے اور اس حق سے ٹکرانے والا باطل پاش پاش ہو جائے گا۔مومن حق کو قبول کرتا ہے۔میں نے حق سمجھ کر اسے قبول کیا اور حضرت نبی کریم کے ارشاد کے موافق کہ مومن جو اپنے لئے پسند کرتا ہے (وہی) اپنے بھائی کیلئے پسند کرتا ہے آپ کو بھی حق کی دعوت دیتا ہوں۔وما علینا الا البلاغ السلام علیکم۔یہ کہہ کر منبر سے اتر آئے اور جلسہ برخاست ہو گیا ہے روایات میں آتا ہے کہ حضرت مولانا حکیم صاحب نے جب کلمہ شہادت پڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کی گواہی دی تو سامعین اس قدر متاثر ہوئے کہ تقریر کے بعد چند ہند و صاحبان نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اگر ایک دفعہ آپ پھر وہی کلمہ پڑھ دیتے تو ہم پورے مسلمان ہو جاتے۔لیکن آدھے مسلمان تو ہو گئے ہیں۔ادھر تو یہ کیفیت تھی جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے مگر دوسری طرف علمائے سو ء بھی اپنے مشن کو پورا کرنے کی مذموم کوشش میں برابر مصروف تھے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر لوگوں کو جلسہ میں شرکت کرنے سے منع کر رہے تھے۔