لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 26
26 میں علماء پیروں، فقیروں اور گدی نشینوں پر اتمام حجت کیلئے لاہور تشریف لائے اور منشی میراں بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی واقعہ چونے منڈی میں قیام فرمایا۔۲۰ جنوری کو آپ تشریف لائے اور سب سے پہلا لیکچر آپ نے ۳۱ جنوری کو دیا۔اس لیکچر کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں : ۳۱ جنوری ۱۸۹۲ء کو آپ نے ایک عام لیکچر منشی میراں بخش صاحب کی کوٹھی کے احاطے میں ہی دیا۔بلا مبالغہ ہزاروں آدمی وہاں موجود تھے۔ہر طبقہ کے لوگ تھے۔تعلیم یافتہ شرفاء شہر عہدیداران۔انتظام پولیس نے کیا ہوا تھا۔حضرت اقدس نے اپنے دعاوی کو مبرہن کیا اور ان کے متعلق ضروری دلائل پیش کئے۔اور بالآ خر آپ نے اس الزام کے جواب میں کہ علماء میرے مقابلہ میں دلائل قرآنیہ سے عاجز آ کر میرے خلاف کفر کا فتویٰ دیتے ہیں، ایک مومن کو کا فرکہ دینا آسان ہے مگر اپنا ایمان ثابت کرنا آسان نہیں۔قرآن کریم نے مومن اور غیر مومن کیلئے کچھ نشان مقرر کر دیے ہیں۔میں ان کافر کہنے والوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اسی لاہور میں میرے اور اپنے ایمان کا قرآن مجید کے مطابق فیصلہ کرالیں، سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تقریر کے بعد حضرت حاجی الحرمین مولوی حکیم نورالدین موعود علیہ السلام کا ایک مکتوب جو ۳ مئی ۱۸۹۰ء کا تحریر کردہ ہے۔درج ہے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام حضرت منشی رستم علی صاحب رضی اللہ عنہ کو خط تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں بمقام لاہور بغرض علاج کرانے کے آیا ہوا ہوں۔خاکسار غلام احمد از لاہور مکان مرزا سلطان احمد نائب تحصیلدار لاہور۔۳ مئی ۱۸۹۰ء اس خط پر مکرم حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ نے یہ نوٹ تحریر فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام اوائل میں جب لا ہور جاتے تو مرز اسلطان احمد صاحب جو آپ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں کے مکان پر ٹھہرا کرتے تھے۔اور اس وقت ڈاکٹر محمد حسین صاحب مرحوم سے علاج کرایا کرتے تھے۔یہ ڈاکٹر صاحب مسٹر احمد حسین مشہور ناولسٹ کے والد ماجد تھے اور بھائی دروازہ کے اندر رہا کرتے تھے“۔