لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 28
28 حضرت اقدس کے کمال ضبط کا ایک واقعہ لوگوں کی بکثرت آمد ورفت اور دن بھر کے ہجوم کو دیکھ کر آپ منشی میراں بخش صاحب کی کوٹھی سے محبوب را یوں کے ایک وسیع اور فراخ مکان میں منتقل ہو گئے۔اس مکان کے اندر اتنا بڑا صحن تھا کہ اس میں ہزاروں افراد بآسانی سما سکتے تھے۔ادھر حضرت میاں چراغ دین صاحب اور حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر رئیسان لاہور کے مکانات بھی قریب ہی تھے اور ان مکانوں کے سامنے حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب کی مسجد تھی جس میں حضور اور حضور کے اصحاب بآسانی با جماعت نماز میں ادا فرما سکتے تھے۔اس لئے یہ مکان آپ کے مقاصد کیلئے نہایت ہی موزوں تھا۔حضور کے لاہور آنے کی ایک غرض یہ بھی تھی کہ حضور اپنی کتاب آسمانی فیصلہ میں تحریر فرمودہ مضمون کے مطابق لاہور کے ہر طبقہ کے مذہبی لوگوں پر یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ اگر وہ حضور کے ساتھ تائیدات سماوی میں مقابلہ کرنا چاہیں تو ان کے لئے یہ راہ بھی کھلی ہے اور چونکہ اس مقصد کی تکمیل کیلئے سب سے زیادہ موزوں مقام لاہور تھا۔اس لئے حضور خود لاہور تشریف لے آئے تا لوگوں پر حجت پوری کی جا سکے۔چنانچہ حضور نے ایک بہت بڑے مجمع میں منشی شمس الدین صاحب (جنرل سیکرٹری انجمن حمایت اسلام) سے فرمایا کہ آپ آسمانی فیصلہ“ پڑھ کر سنا ئیں۔اس مجلس میں چونکہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جس سے آپ کے کمال ضبط کا اظہار ہوتا ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے مشہور سوانح نگار حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے الفاظ میں ہی یہ واقعہ یہاں درج کر دیا جائے۔آپ فرماتے ہیں: " حضرت مجلس میں تشریف فرما تھے اور منشی شمس الدین صاحب مرحوم جنرل سیکرٹری کو آپ نے آسمانی فیصلہ دیا کہ اسے پڑھ کر حاضرین کو سنا ئیں۔اس وقت کا پورا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے ہے۔اس مجلس میں بابو موز مدار جو برہمو سماج کے ان دنوں محبوب را ئیاں ہندو کھتریوں کی گوت کے قبیلہ کا نام ہے۔اس قبیلہ کے بعض افرا د ریاست جموں وکشمیر میں معزز عہدوں پر فائز تھے جس کی وجہ سے حضرت مولانا حکیم صاحب کے ساتھ بھی ان کے تعلقات تھے۔یہ مکان اندرون شہر سید مٹھا بازار میں واقع ہے۔(مؤلف)