لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 269 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 269

269 اسی وقت یہ الہام سب کو سنایا گیا۔جو پاس موجود تھے۔آخر ایسا ہی ہوا کہ وہ لڑکا خدا کے فضل سے تندرست ہو گیا، ۳۸۰ حکیم صاحب مرحوم کی رہائش لوہاری اور شاہ عالمی دروازوں کے درمیان کو چہ چڑیماراں میں تھی کھڑے ( چبوترے ) والا مکان تھا۔خلافت ثانیہ کے شروع میں آپ غیر مبائعین کے زیر اثر آگئے تھے۔آخر عمر میں ظہیر الدین صاحب اروپی کے ہم خیال ہو گئے تھے۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے عہد میں وفات پائی۔فانا لله وانا اليه راجعون۔ان کے ایک لڑکے کا نام نذیر احمد تھا جو پولیس میں ہیڈ کنسٹمیل تھا۔انار کلی کے ایک چوبارے میں ڈاکٹر سلطان احمد صاحب دندان ساز کی دکان ہے یہ بھی ڈاکٹر صاحب مرحوم کے لڑکے ہیں مگر ان کا جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ولادت: حضرت شیخ کریم بخش صاحب بٹ بیعت : ۱۹۰۱ء سے قبل وفات : ١٩٠٦ء حضرت شیخ کریم بخش صاحب محترم با بو شمس الدین صاحب بٹ کے والد ماجد اور مشہور پنجابی شاعر بابا ہدایت اللہ صاحب کے ماموں زاد بھائی تھے۔دونوں نے ۱۹۰۱ء سے قبل اکٹھے بیعت کی تھی۔آپ کے والد ماجد کا نام شیخ احمد بخش صاحب تھا۔حضرت شیخ صاحب گھوڑوں کے سوداگر تھے۔کاروبار فیروز پور چھاؤنی میں شروع کیا تھا مگر پھر آخر عمر میں لاہور آ گئے تھے اور مستی دروازہ میں ایک اصطبل کرایہ پر لیا تھا۔جو اب تک احاطہ شیخ کریم بخش کے نام سے مشہور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فدائی تھے۔جب قادیان جایا کرتے تھے تو اپنے بیٹے بابو شمس الدین صاحب کو بھی ساتھ لے جایا کرتے تھے۔بابوصاحب کا بیان ہے کہ لاہور سے کافی وزن میں گنڈیریاں تیار کروا کر اور خوشبولگا کر ساتھ لے جایا کرتے تھے۔بٹالہ سے پیدل ہم لوگ وہ گنڈیریاں کندھوں پر اٹھا کر قادیان جایا کرتے تھے اور حضور مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے۔آپ بڑے مضبوط آدمی تھے۔افسوس کہ ۱۹۰۶ء میں چالیس سال کی عمر میں وفات پاگئے۔انا لله و انا اليه راجعون۔اولاد: با بوشمس الدین صاحب بٹ۔غلام محمد مرحوم۔ایک لڑکی بھی تھی۔