لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 270
270 حضرت حافظ عبدالجلیل خان صاحب شاہجہانپوری ولادت : مئی ۱۸۹۳ء بیعت: ۱۹۰۰ء حضرت حافظ عبدالجلیل صاحب شاہجہانپوری اندرون موچی گیٹ لاہور نے فرمایا کہ میرے والد صاحب کا نام حافظ قدرت اللہ خان تھا۔پولیس میں سب انسپکٹر کے عہدہ پر متعین تھے۔مگر چونکہ بہت نیک طبیعت تھے اس لئے رشوت کے قریب بھی نہیں پھٹکتے تھے۔ادھر افسران بالا چاہتے تھے کہ ان کی نقدی وغیرہ سے خدمت کی جائے۔یہ حالات دیکھ کر انہوں نے ملازمت سے استعفاء دے دیا تھا۔شاہجہان پور میں حضرت حافظ مختار احمد صاحب کے ساتھ ان کے بہت تعلقات تھے۔حافظ صاحب انہیں زبانی بھی تبلیغ کرتے تھے اور کتابوں کے ذریعہ بھی۔ہماری والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے والد جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھتے تو اکثر آبدیدہ ہو کر فرمایا کرتے تھے کہ میں غریب آدمی ہوں۔روپیہ پیسہ سے سلسلہ کی خدمت نہیں کر سکتا دل چاہتا ہے کہ اگر کوئی میرے بچوں کو خرید لے تو میں وہ روپیہ حضرت صاحب کی خدمت میں بھیج دوں اور حضورا سے اشاعت اسلام میں خرچ کر لیں۔۱۹۰۰ء میں وہ معہ اہل و عیال ہجرت کر کے قادیان میں آ گئے تھے اور بیعت کر کے سلسلہ کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔حضور نے انہیں لنگر خانہ کے لئے اردگرد کے دیہات سے ایندھن خرید کر لانے کے لئے مقرر فرمایا تھا۔میں حضرت صاحب کے گھر میں ہی رہتا تھا۔جب حضرت صاحب کا وصال ہوا تو میری عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی اور آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا۔نویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ والد صاحب فوت ہو گئے اور میں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔محترم ڈاکٹر عبداللہ صاحب نو مسلم سے میں نے بہت حد تک کمپونڈری کا کام سیکھ لیا تھا۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مجھے اپنے ساتھ لاہور لائے اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے پاس چھوڑ گئے۔چند دن میں نے ڈاکٹر صاحب موصوف کے مکان پر گزارے اور پھر ریلوے میں ملازمت اختیار کر لی۔فارغ اوقات میں ڈاکٹر صاحب کی ڈسپنسری پر کام بھی کرتا رہا۔یہ عرصہ کوئی آٹھ دس ماہ کا ہی ہو گا۔اس کے بعد میں