لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 237 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 237

237 نے ملا زمت کی۔پھر میں قادیان چلا گیا اور حکیم فضل دین صاحب بھیروی کے پاس ملازم ہو گیا کیونکہ مطبع کے منتظم اعلیٰ وہی تھے۔سات روپے ماہوار میری تنخواہ مقرر ہوئی۔اس پر حکیم مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے مبارکباد دی کہ تم نے فضل دین سے سات روپے ماہوار کی نوکری لی ہے۔یہ تو کسی منشی کو پانچ روپے سے زیادہ نہیں دیا کرتے۔چنا نچہ کچھ عرصہ میں ان کی ملازمت میں رہا۔اس عرصہ میں پھر لاہور سے جس دکان پر میں ملازم تھا۔اس کے مالک نے حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا کہ آپ کا مرید محبوب عالم ہمارا ملازم تھا۔نوکری چھوڑ کر چلا گیا ہے۔آپ اس کو ہدایت فرماویں کہ واپس آ جائے کیونکہ وہ دیانتدار آدمی ہے۔ہمیں اس کی ضرورت ہے۔چنانچہ حضرت صاحب کو جب یہ خط ملا تو حضور نے مجھے طلب فرمایا اور حکم دیا کہ آپ فورالا ہور چلے جائیں۔اس دکاندار نے آپ کی بہت تعریف لکھی ہے۔اس واسطے ہمارا خیال ہے کہ آپ ان کے پاس پہنچ جائیں۔چنانچہ میں لاہور آ گیا اور نہیں روپے ماہوار پر ملازم ہو گیا۔دوسال کے بعد اس پروپرائٹر دکان نے جس کا نام الہ بخش تھا میاں محمد موسیٰ کو اپنی تجارت میں حصہ دار بنا لیا۔اب میں بجائے ایک شخص کے دو کا ملازم ہو گیا۔مگر قدرت خداوندی سے الہ بخش علیحدہ ہو گیا اور میاں محمد موسیٰ دکان کا واحد مالک ہو گیا۔اور مجھے مینیجر رکھ لیا۔اب میں نے میاں محمد موسیٰ صاحب کو تبلیغ شروع کی۔چنانچہ ان کو قادیان بھیجا۔مگر وہ شامت اعمال سے قادیان سے بغیر بیعت کے واپس آگئے۔بعد ازاں میں ان کو کبھی کبھی اخبار بدرسنا تا رہا۔پھر میں نے ان کو ایک دن ایک حدیث سنائی کہ ایک دن ایک بدوی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور اس نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا آپ خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ خدا تعالیٰ کے رسول ہیں۔آنحضرت تو اللہ نے قسم کھا کر کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔تب اس بدوی نے بیعت کر لی اور اپنے قبیلہ کی بھی بیعت کروادی۔جب یہ واقعہ میں نے میاں محمد موسیٰ صاحب کو سنایا تو ان پر بڑا اثر ہوا۔اور انہوں نے اسی وقت ایک کارڈ حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا کہ کیا آپ خدا کی قسم کھا کر کہ سکتے ہیں کہ آپ مسیح موعود ہیں۔یہ کارڈ جب حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچا تو حضور نے مولوی عبدالکریم صاحب