لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 236
236 صاف لکھا ہے۔فانكحو هُنَّ باذن اهلهن ” نیز حضور نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں۔دعا قبول نہیں ہوتی۔آج رات میں نے سوائے آپ کے اور کوئی دعا نہیں کی اور میری دعا ہی آپ کو یہاں کھینچ لائی ہے اور آپ اس گناہ سے بچ گئے ہیں۔اور اب آپ چھ ماہ تک قادیان میں ہی ٹھہریں۔چنانچہ میں قادیان میں ٹھہر گیا اور ضیاء الاسلام پریس میں حضرت صاحب کی کتابیں چھپوانے پر میری ڈیوٹی لگ گئی۔مرزا اسماعیل بیگ صاحب پریس مین تھے اور میں ان کا نگران تھا۔حضرت صاحب کو صاف اور ستھری کتابیں چھپوانے کا از حد خیال تھا۔۲۔ایک دفعہ مرزا اسماعیل بیگ صاحب نے میری شکایت کی کہ یہ بے جائنگ کرتے ہیں اور چھاپنے نہیں دیتے۔حضور نے مجھے طلب فرمایا۔میں حاضر ہوا۔فرمایا۔کیا بات ہے؟ میں نے وہ کاغذ جو ر ڈی چھپے ہوئے تھے پر لیس سے لا کر پیش کر دئیے۔حضور ایک ایک کاغذ کو دیکھ کرفرماتے تھے کہ مرزا اسماعیل بیگ یہ تو خراب ہے۔یہ چھپائی تو واقعی خراب ہے۔آپ ان کے کہنے پر کام کریں اور میں نے ان کو رکھا ہی اس لئے ہے کہ کتاب صاف اور ستھری چھپے۔چھ ماہ تک میں نے مطبع میں کام کیا۔جب چھ ماہ گذر گئے تو میں نے حضور سے اجازت طلب کی۔حضور نے فرمایا آج نہ جاؤ کل چلے جانا مگر میں نے اپنے اجتہاد سے کام لیا کہ اب اجازت ہو گئی ہے۔اب آج کیا اور کل کیا۔آج ہی چلو۔چنانچہ میں گاؤں والے راستہ سے چل پڑا۔عصر کا وقت تھا۔اچانک بادل اٹھا اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔اس کثرت سے بارش ہوئی کہ الامان والحفیظ ! بڑی مشکل سے نہر پر پہنچا۔سورج غروب ہو گیا۔بارش اور ہوا کا تیز ہونا، کپڑوں کا گیلا ہونا، پیدل چلنا اور رستہ میں کیچڑ اور پانی کا بکثرت ہونا یہ سب باتیں ایسی تھیں کہ جن کو دیکھ کر مجھے حضور کے ارشاد کی قدر معلوم ہوئی اور میں نے سمجھا کہ میں نے بہت غلطی کی ہے۔چنانچہ میں نے رات دس بجے برلب سڑک درختوں کے اندر بٹالہ میں جو ایک چھوٹی سی مسجد ہے وہاں پہنچ کر کپڑے نچوڑے اور مسجد کے اندر بیٹھ رہا۔ساری رات وہیں پڑا رہا۔چار بجے صبح کو گیلے کپڑے پہن کر گاڑی پر سوار ہوا اور لاہور پہنچا۔یہاں پہنچ کر ایک بائیسکل کی دوکان پر ملازم ہو گیا۔تھوڑ ا عرصہ میں