لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 238
238 کو حکم دیا کہ لکھ دو۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا وعدہ آنحضرت نے اس امت کو دیا تھا۔اس کارڈ میں مولوی عبدالکریم صاحب نے اپنی طرف سے بھی ایک دو فقرے لکھ دیئے۔جن کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے خدا کے مسیح کو قسم دی ہے۔اب آپ یا تو ایمان لائیں یا عذاب الہی کے منتظر ر ہیں۔وہ کارڈ جب پہنچا تو میاں محمد موسی صاحب نے اپنی اور اہل وعیال کی بیعت کا خط لکھ دیا۔اس طرح سے میں اب اکیلا نہ رہا۔بلکہ میرے ساتھ خدا تعالیٰ نے ان کو بھی شامل کر دیا۔۳۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا بھی تھے۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کو عجائب گھر چھوڑ کر حضور ہماری دکان پر تشریف لائے۔میں نے حضور کی خدمت میں دکان کے اندر آنے کی التجا کی۔حضور نے فرمایا۔نبی دکانوں میں نہیں بیٹھا کرتے۔کرسی باہر لے آئیں یہیں بیٹھیں گے۔چنانچہ میں نے کرسی دکان کے باہر کھلی جگہ میں بچھائی۔حضور تشریف فرما ہوئے اور پانی طلب فرمایا۔میں نے دودھ کی لسی پیش کی۔حضور نے میری طرف دیکھا اور مسکرائے۔فرمایا میں نے تو پانی مانگا تھا۔غالباً ساتھ ہی فرمایا کہ مجھے نزلہ کی شکایت ہے یا ز کام ہے اس لئے میں لتی نہیں پیتا۔میرے اصرار پر ایک گھونٹ نوش فرما کر برکت دی۔پھر میں نے پانی منگوا دیا۔حضور نے پیا اتنے میں ایک شخص آیا۔اس کا نام محمد امین تھا۔وہ بوٹوں کی دکان کیا کرتا تھا۔مجمع کو دیکھ کر کہنے لگا کہ کیا ہے؟ کون ہے؟ ان لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ مرزا صاحب قادیان والے ہیں۔چنانچہ وہ آگے بڑھا۔مجمع کو چیرتے ہوئے سامنے کھڑا ہو گیا اور نہایت گستاخی اور بے باکی سے یا دجال یا کافر کہہ کر السلام علیکم کہا۔حضور مسکرائے اور فرمایا کہ دجال بھی اور السلام علیکم بھی۔یہ دو متضاد باتیں کس طرح جمع ہو سکتی ہیں۔اس پر حضور نے ایک تقریر فرمائی جس کا خلاصہ میں اپنے الفاظ میں لکھواتا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ یہ مسلمانوں کی انتہائی بدنصیبی ہے کہ ان کے درمیان دجال پیدا ہو گیا جب کہ ان کو ضرورت تھی کسی مصلح کی ! اللہ تعالیٰ نے ایسے وقت میں ان پر رحم فرمایا جب کہ ان کی حالت پراگندہ تھی اور شیرازہ بکھرا ہوا تھا۔مگر افسوس کہ وہ بد قسمتی سے ایک ہادی کو دجال سمجھ رہے ہیں۔حضور