لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 235
235 عہد لکھ دیا۔لیکن میں پھر بھی اس جذبہ سے باز نہ رہ سکا اور اپنے عہد کے خلاف پھر حضور کی خدمت میں اس رشتہ کی بابت دعا کروانے کے لئے خط لکھنا شروع کر دیا کہ اللہ قادر ہے۔اس کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں۔ممکن ہے کوئی ذریعہ ایسا نکل آئے جس سے میں کامیاب ہو جاؤں۔چنانچہ میں حضور کو روزانہ کئی سال تک خط لکھتا رہا۔آخر میں ایک خط میں نے حضور کو لکھا کہ جو پیر اپنے مرید کو اس دنیا میں جہنم سے نہیں نکال سکتا۔وہ آخرت میں کیا فائدہ دے گا۔حضور اگر وہ عورت مجھے نہیں دلا سکتے تو کم از کم اس جہنم سے تو مجھے نکا لیں۔جس میں میں پڑا ہوا ہوں اور میرا دل اس سے پھر جائے۔اس خط کے جواب میں مولوی عبدالکریم صاحب کا کارڈ میرے پاس پہنچا جس میں لکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔آج رات میں محبوب عالم کے لئے دعا کر رہا تھا کہ مجھے الہام ہوا دل پھیر دیا گیا“ یا تو یہ عورت آپ کو مل جائے گی یا پھر آپ کو اس کا خیال ہی نہیں آئے گا۔اس سے قبل ایک رات مجھے بھی رویا میں دکھا یا گیا تھا کہ میرے اور اس عورت کے رشتہ داروں کے درمیان ایک دیوار ہے جو زمین سے لے کر آسمان تک کھنچی ہوئی ہے اور میں اُدھر نہیں جاسکتا۔اور وہ ادھر نہیں آسکتے اور مجھے بتایا گیا کہ یہ دیوار قہقہہ ہے جس کا مطلب مجھے یہ سمجھ آیا کہ اس کو عبور نہیں کیا جا سکتا۔پس اس دن سے مجھے اس کا کبھی خیال پیدا نہیں ہوا۔اس رؤیا سے ایک دن قبل میں نے حضور کو لکھا کہ اگر شرعاً جائز ہو اور حضور ا جازت دیں تو میں اس عورت کو نکال کر ہمراہ لا سکتا ہوں۔جب یہ کارڈ میں پوسٹ کر چکا تو رات بھر مجھے نیند نہیں آئی اور بے کلی رہی اور صبح کو ہی میں نے قادیان کا رخ کیا۔قادیان پہنچ کر حضور کی خدمت میں اطلاع کروائی۔حضور فوراً ننگے سر باہر تشریف لائے۔فرمایا۔وہ عورت کہاں ہے؟ میں نے عرض کی۔حضور ! میں اس کو ساتھ تو نہیں لا یا کیونکہ حضور کی طرف سے مجھے کوئی جواب نہیں گیا۔حضور نے فرمایا۔یہ تم نے بہت اچھا کیا کہ زنا سے بچ گئے۔اس طرح سے کسی عورت کا نکال کر لانا نکاح نہیں ہوسکتا بلکہ زنا ہی رہتا ہے کیونکہ یہ امرمومن کی شان کے خلاف ہے کہ وہ ولی کی اجازت کے بغیر کسی عورت کے ساتھ نکاح کر لے۔قرآن میں