لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 22 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 22

22 ساری جماعت احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ تو نے نازل فرمایا ہے میں اس کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلاؤں گا“۔تو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہمیشہ قربانیوں کا تقاضا کیا کرتا ہے۔میں یہاں کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس جگہ مصلح موعود کی پیشگوئی کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر انکشاف کا ہونا لاہور کی جماعت کی ذمہ داریوں کو بہت بڑھا دیتا ہے۔یہیں سے پیغا می فتنہ نے سراٹھایا اور یہیں ان کا مرکز ہے۔یہیں سے احراری فتنہ اٹھا اور یہیں ان کا مرکز ہے۔اور بھی جس قدر فتنے اٹھے ان میں زیادہ تر لا ہور کا ہی حصہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی زیادہ تر چیلنج لاہور ہی سے ملا کرتے تھے۔اور یا پھر امرتسر سے امرتسر سے کم اور لاہور سے زیادہ۔پھر اس وقت پنجاب کا سیاسی مرکز بھی لاہورہی ہے۔پس بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں جو یہاں کی جماعت پر عائد ہوتی ہیں۔ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے ہی تمہیں ان برکات سے حصہ مل سکتا ہے جو خاص مقامات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب خدا کسی مقام کو اپنی برکتوں کے لئے مخصوص قرار دے دیتا ہے تو وہاں کے رہنے والوں کو اپنے انعامات سے بھی زیادہ حصہ دیا کرتا ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان مقامات کے رہنے والوں کو قربانیاں بھی دوسروں سے زیادہ کرنی پڑتی ہیں۔جو قربانیاں مکہ اور مدینہ والوں کو کرنی پڑیں وہ کسی اور جگہ کے رہنے والوں کو نہیں کرنی پڑیں مگر جو انعامات مہاجرین اور انصار کو ملے وہ بھی کسی اور کو نہیں ملے۔یہ خیال کرنا کہ مکہ اور مدینہ والوں کو اللہ تعالیٰ نے یونہی انعام دے دیا ہو گا ایک پاگل پن کی بات ہے۔انہوں نے خدا کے لئے اپنے آپ کو خاک میں ملایا اور پھر اپنی خاک کو بھی اس کی رضا کے حصول کے لئے اڑا دیا۔تب انہیں انعامات حاصل ہوئے۔تب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مستحق ہوئے۔پس جماعت لاہور کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔اپنے اندر تغیر پیدا کرے۔اپنے اخلاص اور اپنی نیکی میں ترقی کرے اور خدا تعالیٰ کی محبت اپنے قلوب میں پیدا کرے“ سے تذکره صفحه ۳۷۶ خطبه جمعه فرموده ۱۹ / فروری ۱۹۵۴ء بمقام رتن باغ منقول از الفضل ۱۱۳ دسمبر ۱۹۶۱ء الفضل ، مورخه ۲۱ جون ۱۹۴۴ء ,