لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 21 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 21

21 بالکل بدل جائے اور تم اولیت کے مقام کو دوبارہ حاصل کر لو ہے میں سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی حکمت کے ماتحت مجھ پر جو لاہور میں موجودہ انکشاف پیشگوئی مصلح موعود ) کیا ہے اس سے لاہور کی جماعت کی ذمہ داریوں اور ساتھ ہی ان کی امداد کے وعدے کا بھی اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے۔کیونکہ یہ خدا کی سنت کے خلاف ہے کہ وہ ایک چیز کو اپنے کلام اور اپنی رحمت کے لئے مخصوص کرے اور پھر اسے یونہی بھول جائے۔لوگ بھول جاتے ہیں مگر خدا اسے نہیں بھولتا جب تک بندے اس کو نہیں بھول جاتے۔بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جیسے مکہ مکرمہ ہے یا جیسے مدینہ منورہ ہے یا جیسے قادیان ہے کہ یہاں کے رہنے والے اگر خدا کو بھول جائیں تب بھی یہ شہر مغضوب نہیں بن سکتے۔وہ ان لوگوں کو تو سزا دے گا مگر (ان ) شہروں کی برکتیں واپس نہیں لے گا۔لیکن بعض شہر ایسے ہوتے ہیں جن کو عارضی برکتیں مل جاتی ہیں وہ اگر ان کو دائگی بنانا چاہئیں تو دائگی بن جاتی ہیں اور اگر ان کو چھوڑ دیں تو چھوٹ جاتی ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام بھی یہاں لاہور میں ہی ہوا کہ سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را یہ الہام در حقیقت آپ کی وفات کی طرف اشارہ کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان سے یہ کلمات جاری فرمائے کہ سپردم بتو مایه خویش را اے خدا میرے لئے اس دنیا کی میں تیری مرضی کے مطابق جس قدر رہنا مقدر تھا وہ میں رہ چکا۔میری عمر کا جوسر ما یہ تھا وہ اب میں تیرے سپر د کر رہا ہوں تو دانی حساب کم و بیش را تو چاہے تو میرے اس سرمائے کو تباہ کر دے اور چاہے تو قائم رکھ۔سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور کرم سے یہی فیصلہ کیا کہ وہ اس سرمایہ کو قائم رکھے۔دشمن نے چاہا کہ وہ اس کے اندر بگاڑ پیدا کر دے مگر وہ ہمیشہ منہ کی کھاتا رہا۔مجھے یاد ہے گو میں اس وقت انیس سال کا تھا مگر میں نے اسی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا کہ ”اے خدا میں تجھ کو حاضر و ناظر جان کر تجھ سے سچے دل سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر