لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 219
219 انہوں نے ز منتظمین سلسلہ سے شامیانے مانگے مگر انہوں نے انکار کر دیا۔اس پر وہ حضرت کے حضور حاضر ہو گئے۔حضور نے اسی وقت منتظمین کو بلوایا اور فرمایا کہ نہ صرف یہ کہ شامیانے دو بلکہ اپنے آدمیوں کے ذریعہ جا کر شامیانے لگواؤ اور پھر خود ہی اتار کر واپس لاؤ کیونکہ ان بیچاروں کو کیا علم کہ شامیانہ کس طرح لگایا جاتا اور کس طرح اتارا جاتا ہے۔۳۔جب حضور آخری سفر میں لاہور تشریف لائے۔تو اکثر تیسرے پہر فٹن پر سوار ہوکر سیر کے لئے میانمیر کی طرف تشریف لے جاتے۔ملک مبارک علی صاحب اپنی گاڑی پر مع اپنے ساتھیوں کے حضور کی گاڑی کے پیچھے کچھ فاصلے پر رہتے اور اکثر احباب جو پیدل پہلے ہی پہنچے ہوئے ہوتے، صرف حفاظت کے طور پر دور دور فاصلے پر کہیں نہ کہیں کھڑے رہتے۔چنانچہ میں بھی اکثر حفاظت کے لئے پہلے ہی نکل جایا کرتا تھا۔۴۔ایک دفعہ حضور نے ایک جنازہ اتنا لمبا پڑھا کہ قریب تھا کہ ہم گر جائیں۔یہ معلوم نہیں کہ جنازہ کس کا تھا نماز سے فارغ ہو کر ایک دیہاتی دوڑا ہوا آیا۔اور عرض کیا کہ حضور میری ماں کا جنازہ بھی پڑھ دیں۔مسکرا کر فرمایا کہ اس کا بھی پڑھا ہے۔تمہارا بھی پڑھا اور ( مقتدیوں کی طرف اشارہ کر کے ) فرمایا۔ان سب کا بھی پڑھا ہے۔۵۔گورداسپور کے مقدمہ کے دوران میں ایک رات ہم ٹرین سے اترے۔ہوا سخت تیز تھی۔سردی کا موسم تھا۔حضور ایک کوٹھی میں فروکش تھے۔کھانا کھانے کے بعد حضور نے سب کو حکم دیا کہ احباب تھکے ہوئے ہیں سو جائیں۔ہم سب اپنا اپنا بستر کر کے لیٹ گئے۔کچھ دیر کے بعد حضورا اپنے بستر سے اٹھے اور دبے پاؤں ایک چھوٹی سی لالٹین لئے ہوئے ہر ایک کا بستر ٹولا تا یہ معلوم کریں کہ کس کے پاس بستر نا کافی ہے۔پھر حضور جس کا بستر کم دیکھتے اس کے لئے اپنے بستر میں سے کوئی کپڑا اٹھا کر لاتے اور اس پر ڈال دیتے۔میں نے دیکھا کہ حضور نے اپنے بستر میں سے چھ سات کپڑے نکال کر اپنے خدام پر ڈال دیئے۔اللھم صلی علی محمد و آل محمد یہ اخلاق عالیہ بھلا اور کہاں مل سکتے ہیں۔پھر جب زیادہ دیر ٹھہرنا پڑا تو حضور نے ایک مکان کرایہ پر لے لیا جس میں با قاعدہ لنگر اور مہمان خانہ کا انتظام تھا۔