لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 220 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 220

220 خواجہ کمال الدین صاحب یہ کوشش کیا کرتے تھے کہ مقدمات کے متعلق حضور کے ساتھ آہستہ سے الگ گفتگو کریں۔مگر حضور ہر بات تمام احباب کے سامنے بیان فرما دیتے تھے حتی کہ کچہری کے احاطہ میں بھی حضور ایسا ہی کرتے تھے۔کچہری کے احاطہ میں ایک بڑی دری بچھی ہوتی تھی۔تمام احباب اس پر بیٹھ جاتے۔حضور بھی ساتھ ہی تشریف فرما ہوتے۔اگر کسی وقت حضور رفع حاجت کے لئے اٹھتے تو حافظ حامد علی صاحب کو آواز دیتے۔حافظ صاحب ایک تانبے کا لوٹا پانی سے بھر کر ساتھ ہو لیتے۔اور کھیت میں جو قریب ہی تھا۔حضور رفع حاجت کے لئے دور چلے جاتے۔لوٹا چھوٹا سا ہوتا تھا جس سے آبدست بھی کرتے اور کبھی اسی سے وضو بھی فرما لیتے۔میرے خیال میں اس لوٹے میں ڈیڑھ سیر کے قریب پانی آجاتا تھا۔- ۱۹۰۴ء میں جو جلسہ مزار داتا گنج بخش کے عقب میں ہوا تھا اس کی جلسہ گاہ بنانے کے لئے ایک سٹیج لگایا گیا تھا۔جس کے دونوں طرف قریباً پچاس پچاس سائبان لگائے گئے تھے۔ایک سائبان سولہ مربع گز کا ہوتا تھا۔حضور کی گاڑی کے پیچھے میرا بھائی پہلوان کریم بخش اور ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب گوڑ گا نوی بھی کھڑے تھے اور پولیس اور رسالے کا بھی کافی انتظام تھا۔مجھے یاد ہے۔سپر نٹنڈنٹ پولیس نے جب لیکچر کے بعد کم کھولی تو تھکان کی وجہ سے اس کے منہ سے ہائے کی آواز نکلی اور کہا کہ آج تو خدا کے بیٹے نے مار ڈالا رات دو بجے اٹھا ہوں اور اب تک آرام کا موقعہ نہیں ملا۔ے۔حضور اکثر معزز اور مخلص مہمانوں کو رخصت کرنے کے لئے کچھ دور ساتھ بھی جاتے تھے۔چنانچہ ڈاکٹر بوڑے خاں صاحب جو کہ ایک متقی احمدی تھے وہ جب آخری دفعہ قادیان گئے اور واپسی پر حضور سے رخصت ہونے کے لئے حاضر ہوئے تو حضور ان کے ساتھ ہو لئے اور فرمایا۔چلیئے میں بھی آپ کے ساتھ ساتھ چلتا ہوں۔چنانچہ یکہ خالی ساتھ تھا۔حضور علیہ السلام اور خدام بھی ساتھ تھے جو سیر کے لئے نکلے ہوئے تھے۔ڈاکٹر صاحب نے راستہ میں ایک دفعہ اصرار کیا کہ حضور اب واپس تشریف لے جائیں۔مگر حضور باتیں کرتے کرتے موڑ تک تشریف لے گئے۔اس کے چند دن بعد اطلاع موصول حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل کی روایات میں آتا ہے کہ منڈ وہ رائے میلا رام بھائی دروازہ کے باہر تھا۔اور یہاں لکھا ہے جلسہ مزاردا تا گنج بخش کے عقب میں ہوا تھا۔یہ دونوں باتیں درست ہیں۔مزار کا عقب بھائی دروازہ کی طرف ہی ہے۔