لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 218 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 218

218 لی مگر چوہدری شہاب الدین صاحب نے (جو بعد میں سر شہاب الدین کہلائے ) میرا بستر اس سے اٹھا کر میری چار پائی پر قبضہ کر لیا۔حضرت صاحب تشریف لائے۔ہر ایک سے دریافت فرمایا کہ آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں؟ ہر شخص نے کہا کہ حضور مجھے کوئی تکلیف نہیں۔لیکن جب میرے پاس پہنچے تو میں پریشان کھڑا تھا کیونکہ میری چار پائی پر چوہدری شہاب الدین صاحب قبضہ کر چکے تھے۔میں نے عرض کیا کہ حضور! میری چارپائی چوہدری شہاب الدین نے چھین لی ہے اور میں حیران ہوں کہ کہاں سوؤں۔فرمایا۔ٹھہرئیے ! میں آپ کے لئے اور چار پائی لاتا ہوں۔چنانچہ حضرت صاحب تشریف لے گئے۔مگر جب کافی دیر گزرگئی اور چار پائی نہ آئی تو میں نے حضور کے مکان کے صحن کے دروازہ سے اندر جو جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص جلدی جلدی چار پائی بن رہا ہے اور حضور اس کے پاس بیٹھے ہوئے دیا ہاتھ میں لے کر اسے روشنی کر رہے ہیں۔حضور کی یہ حالت دیکھ کر مجھے بہت شرم آئی۔میں آگے بڑھا اور عرض کی کہ حضور دیا مجھے پکڑا دیں مگر حضور نے فرمایا کہ اب تو ایک ہی پھیرا باقی ہے۔حضور کے یہ اخلاق دیکھ کر مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میرے آنسو نکل آئے۔اس وقت میں حضور کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر کہہ رہا تھا کہ یہ چہرہ جھوٹے شخص کا ہر گز نہیں ہوسکتا۔اس سے پہلے جب ہم مغرب کے بعد حضور کے ساتھ کھانے پر بیٹھے تھے تو میں چونکہ حضور کے قریب تھا۔حضور اٹھاتے بٹیر اور فرماتے کہ یہ کھائیں۔دوسرا گوشت اٹھاتے اور میرے آگے رکھ کر فرماتے کہ یہ کھائیں۔اس لئے میں حضور کے اخلاق عالیہ سے بہت ہی متاثر تھا۔مگر رات چار پائی والے واقعہ کو دیکھ کر تو میں دل و جان سے حضور کا غلام بن گیا۔چوہدری سر شہاب الدین صاحب اب بڑے آدمی ہیں مگر میرے ساتھ اسی طرح بے تکلفی سے باتیں کرتے ہیں۔مجھے جب بھی ان سے ملنے کا موقع ملتا ہے یہی کہتے ہیں کہ دیکھا ! میں حضرت صاحب کواب بھی نبی مانتا ہوں۔گو اپنے اعمال کی وجہ سے نظام سلسلہ میں داخل نہیں۔مگر مولوی محمد علی صاحب نے انکار کر دیا ہے۔وغیرہ وغیرہ ۲۔قادیان کے آریہ حضرت اقدس کے شدید مخالف تھے مگر جب کبھی کوئی ضرورت پیش آئی۔حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر بے تکلفی سے عرض کرتے اور حضور ان کی ضرورت کو پورا کر یتے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں قادیان میں ہی تھا کہ ان آریوں کے ہاں کسی بچی کی شادی تھی۔