لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 206 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 206

206 بھی کر لیں۔پھر جس طرح طبیعت مائل ہوا سے اختیار کر لیں۔اس کے چند منٹ بعد حضور مولوی محمد علی صاحب کے کمرہ میں تشریف لے آئے۔یہ وہی کمرہ ہے جس میں سرخ سیا ہی کے قطرات حضور کی قمیض پر گرنے والا کشف ہوا تھا۔حسن اتفاق سے میں بھی اس وقت اس کمرہ میں موجود تھا۔پہلے تو حضور نے مولوی محمد علی صاحب سے چند ضروری باتیں فرمائیں۔پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آپ کس غرض سے ولایت جانا چاہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ چونکہ میں نے بی۔اے پاس کر لیا ہے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے جانا چاہتا ہوں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ میں کسی نوجوان کا وہاں جانا پسند نہیں کرتا۔کیونکہ وہاں دہریت پھیلی ہوئی ہے اور مذہب کو لوگ ایک سوسائٹی سمجھتے ہیں اور اگر کوئی خدا کا نام لے تو لوگ اس پر ہنسی کرتے ہیں اور جیسا کہ آج کل یہاں زلزلے آ رہے ہیں اگر وہاں زلزلہ آ جائے تو شہر کے تباہ ہو جانے کا خطرہ ہے کیونکہ شہر نیچے سے کھوکھلا ہے۔شہر کے نیچے پانی کی بجلی کی، پاخانے کی اور ریلوں کی نالیاں ہیں۔یہ سن کر میں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں پر رکھ کر عرض کیا کہ حضور میری توبہ میں کبھی ولایت جانے کا نام نہیں لوں گا۔پھر حضور کمرہ سے باہر تشریف لے گئے۔یاد رہے کہ حضور کا یہ مشورہ صرف میرے لئے ہی تھا۔کیونکہ ان ایام میں ہندوستان سے باہر ہماری کوئی مسجد نہیں تھی اور مشن کا کوئی مرکز یورپ میں اس وقت موجود نہیں تھا کہ جہاں جا کر نو جوان علم دین حاصل کر سکیں اور اس طرح دہریت کی فضا سے محفوظ رہ سکیں۔مجھے حضور کے اس مشورہ سے بہت فائدہ ہوا کیونکہ میں نے حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ کی دعا اور ارشاد کے ماتحت کوشش کر کے ای۔اے۔سی کا عہدہ حاصل کر لیا اور آخر کار پنشن لے کر قادیان میں ہجرت کر لی۔۳۰ خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ آج کل حضرت ڈپٹی صاحب نے محلہ دارالصدر ربوہ میں اپنی کوٹھی بنوا کر اس میں رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔۱۹۰۶ ء کا ذکر ہے کہ ایک دن میں قادیان ہائی سکول میں بیٹھا ہوا تھا تو مجھے کسی لڑکے نے ان دنوں تعلیم الاسلام ہائی سکول وہاں ہوا کرتا تھا جہاں اب مدرسہ احمدیہ ہے۔(مؤلف)