لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 205
205 وو رہے۔اب وہ وفات پاچکے ہیں۔انا لله و انا اليه راجعون۔۲۹ ۱۹۰۳ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام مولوی کرم دین والے مقدمہ کے لئے اکثر گورداسپور تشریف لے جایا کرتے تھے۔بتاریخ ۱۹۔اگست اس مقدمہ کی پیشی تھی۔میں بھی اس دن گورداسپور چلا گیا اور مجھے بھی عدالت میں حاضری کا موقعہ مل گیا۔حضور شیخ علی احمد صاحب پلیڈر کی کوٹھی میں قیام فرما تھے۔میں نے دیکھا کہ حضور کوٹھی میں ہی رہے۔اور احباب جماعت کچہری کے احاطہ میں جا بیٹھے تھے۔لیکن حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب حضور ہی کے پاس کوٹھی میں پیچھے رہے تھے مجھے خیال آیا کہ واپس جا کر دیکھوں کہ وہ دونوں بزرگ کیوں نہیں پہنچے۔جب میں کوٹھی میں پہنچا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام چار پائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور غنودگی کی سی حالت میں الہامات لکھوا رہے ہیں اور حضرت مفتی صاحب لکھ رہے ہیں۔حضور نے میرے سامنے ایک یہ الہام سنایا کہ یسئلونک عن شانک قل الله ثم ذرهم في خوضهم يلعبون یعنی تیری شان اور مرتبے کے بارے میں پوچھیں گے تو کہہ کہ وہ خدا ہے جس نے مجھے یہ مرتبہ بخشا ہے۔پھر ان کو اپنی لہو و لعب میں چھوڑ دے۔یہ الہام سن کر میں واپس کچہری میں چلا آیا اور کسی کو میرے آنے جانے کی خبر نہ ہوئی۔اُسی دن جب حضور عدالت میں تشریف لائے تو مجسٹریٹ نے حضور سے آپ کی شان اور مرتبہ کے متعلق دریافت کیا اور سوال کیا کہ کیا آپ کی شان اور مرتبہ ایسا ہے جیسا کہ آپ کی کتاب تحفہ گولڑویہ صفحہ ۵۰ میں لکھا ہے تو حضور نے جواب دیا کہ ہاں خدا کے فضل سے میرا یہی مرتبہ ہے۔اسی نے یہ مرتبہ عطا کیا ہے۔تب وہ الہام جو خدا کی طرف سے صبح کے وقت ہوا تھا وہ اسی دن عصر کے وقت پورا ہو گیا اور جماعت کے احباب میں ایمان کی زیادتی کا موجب ہوا۔۱۹۰۵ء میں میں نے بی۔اے کا امتحان پاس کر لیا اور تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں ملازم ہو گیا۔ایک دن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بذریعہ عریضہ دریافت کیا کہ میں مزید تعلیم کے لئے ولایت جانا چاہتا ہوں۔حضور اپنے مشورہ سے مشرف فرمائیں۔حضور نے جواباً تحریر فرمایا کہ آپ اپنے رشتہ داروں سے مشورہ کر لیں اور استخارہ