لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 207
207 آ کر بتایا۔خواجہ کمال الدین صاحب آگئے ہیں اور سید ھے مسجد مبارک چلے گئے ہیں۔یہ خیال کر کے کہ شاید خواجہ صاحب سلسلے کے متعلق کوئی خبر لائے ہوں میں بھی مسجد مبارک چلا گیا میں نے دیکھا کہ خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب دونوں کھڑے آپس میں باتیں کر رہے ہیں میں بھی ان کے پاس جا کھڑا ہوا۔اسی اثناء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہاں تشریف لے آئے اور السلام علیکم اور مصافحہ کے بعد خواجہ صاحب سے حضور نے فرمایا کہ میں نے آپ کے متعلق ایک خواب دیکھا ہے اور میں نے مولوی صاحب سے کہا تھا کہ خواجہ صاحب کو تار دے کر بلا لیں اور وہ خواب یہ ہے کہ آپ گندے پانی کی نہر کے کنارے پر کھڑے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے کاموں میں دنیا کی ملونی ہوتی ہے۔اس سے آپ کو پر ہیز کرنا چاہئیے۔اس موضوع پر حضور نے خواجہ صاحب کو کچھ نصیحتیں بھی کیں اور پھر مکان میں واپس تشریف لے گئے۔اسے "رسالہ ” الوصیت شائع ہونے کے بعد ۱۹۰۶ء میں ایک دن لاہور سے آئے ہوئے مستری محمد موسیٰ صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ بہشتی مقبرہ کا ایک نقشہ تیار کر دیں۔جس میں قبروں اور راستوں کے نشانات دکھائے جائیں۔جس وقت مستری صاحب نے وہ نقشہ تیار کر کے حضور کی خدمت میں پیش کیا۔اس وقت میں بھی حاضر تھا۔حضور نے وہ نقشہ پسند فرمایا۔اس پر مستری صاحب نے نقشہ میں ایک قبر پر انگلی رکھ کر عرض کیا کہ حضور یہ قبر میرے لئے مخصوص کر دی جائے۔حضور نے فرمایا کہ کوئی قبر کسی کے لئے مخصوص نہیں کی جاسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ماتدري نفس بای ارض تموت یعنی کسی کو معلوم نہیں یعنی اس نے کس زمین میں مرنا ہے۔مستری صاحب خاموش ہو گئے۔اس کے قریب دو سال بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات پاگئے تو حضرت مستری صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ وہی قبر ہے جو میں نے اپنے لئے چاہی تھی۔لیکن اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جسد اطہر اس میں دفن کیا گیا ہے۔دراصل یہ وہ قبر تھی جو حضور کو کشف میں چاندی کی طرح چمکتی دکھائی گئی تھی جس کا ذکر